55

آئل کمپنیوں کے لائسنس  منسوخ ہوئے تو بہت بڑا بحران جنم لے گا

[ad_1]

آئل کمپنیوں کے لائسنس  منسوخ ہوئے تو بہت بڑا بحران جنم لے گا کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندہ وفد نے چیئرمین فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے ملاقات کی اور ملک میں جاری صورتحال کے حوالے سے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندہ وفد نے کہا کہ پٹرولیم بحران کے زمینی حقائق کے حوالے سے وزیر اعظم کو غلط اطلاعات پہنچائی گئی ہیں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر اوگرا نظر رکھتا ہے ،  ملک میں حالیہ پٹرولیم بحران اس لیے پیدا ہوا ہے کیونکہ 25 مارچ 2020 کو ڈی جی آئل نے تیل کی درآمد کے معاہدے منسوخ کردیے تھے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے بار بار درآمدات سے پابندی ہٹانے کی درخواست کی گئی لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی،  22 اپریل کوپابندی ہٹائی گئی جبکہ 6 مئی کو پی ایس او کو جون کی خریداری کی اجازت دی گئی، اس دوران عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا تھا۔ آئل کمپنیوں کے نمائندہ وفد نے پٹرولیم بحران کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی کمیٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس میں ڈی جی آئل اور پی ایس او کے نمائندے کا شامل ہونا مفادات کا ٹکراؤ ہے،  کمیٹی میں ایف آئی اے کو بھی شامل کیا گیا ہے ، حالانکہ یہ معاملہ ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہی نہیں ہے اس لیے اسے روکا جانا چاہیے۔ آئل کمپنیوں نے کہا کہ اگر اوگرا کی جانب سے ان کے لائسنس معطل کیے گئے تو ہزاروں پٹرول پمپس کے پاس سپلائی نہیں پہنچ پائے گی ، اس صورت میں جولائی کیلئے تیل کی خریداری بھی ممکن نہیں ہوسکے گی جس کی وجہ سے تیل کا بہت بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرکے ایک شفاف انکوائری کرکے پٹرولیم بحران کے اصل ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

مزید :

بزنس –

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں