70

پنجاب کا 2 ہزار 240 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا

[ad_1]

 پنجاب کا 2 ہزار 240 ارب روپے کا بجٹ پیش کر دیا گیا  مالی سال 21-2020 کیلیے پنجاب کا 2 ہزار 240 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا۔بجٹ اجلاس میں اپوزیشن نے احتجاج اور شور شرابا کیا، اپوزیشن ارکان نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں، نعرے لگائے اور ہنگامہ آرائی کی۔اپوزیشن ارکان نے اجلاس سے واک آوٹ کرتے ہوئے، ایوان کے باہر بھی احتجاج کیا۔صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بحت کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا بلکہ کئی شعبوں میں ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے۔بجٹ تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ نئے مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 2240 ارب روپے ہے۔ قابل تقسیم پول (Federal Divisible Pool) میں محصولات کی وصولی 49 کھرب 63 ارب روپے متوقع ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبہ پنجاب کو 14 کھرب 33 ارب روپے مہیا کیے جائیں گے۔ صوبائی محصولات میں 317 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ترقیاتی بجٹ کا حجم 337 ارب روپے ہو گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ پنجاب حکومت اپنی کاروبار دوست پالیسیوں کو مزید تقویت دیتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 56 ارب روپے سے زائد کے ٹیکس ریلیف پیکیج کا اعلان کر رہی ہے۔ ہاشم جواں بخت کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سیلز ٹیکس آن سروسز کی مد میں ہیلتھ انشورنس، ڈاکٹر کی کنسلٹنسی فیس اور اسپتالوں کی فیس جو بالترتیب 16 اور 5 فیصد تھی زیرو فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ 20 سے زائد سروسز پر ٹیکس ریٹ 16 فیصد سے 5فیصد کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے، جن میں چھوٹے ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز، شادی ہال، لانز، پنڈال، شامیانہ سروسز اور کیٹررز، آئی ٹی سروسز، ٹورآپریٹرز، جم، پراپرٹی ڈیلرز، رینٹ اے کار سروس، کیبل آپریٹرز، لیدر اور ٹیکسٹائل ٹریٹمنٹ، زرعی اجناس سے متعلقہ کمیشن ایجنٹس، آڈیٹنگ، اکاؤنٹنگ اور ٹیکس کنسلٹینسی سروسز، فوٹوگرافی اور پارکنگ سروسز شامل ہیں۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پراپرٹی بلڈرز اور ڈیولپرزسے بالترتیب 50 روپے فی مربع فٹ اور 100روپے فی مربع گز ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے۔ جو شخص پراپرٹی بلڈر اور ڈیولپر کے طور پر ٹیکس ادا کرے گا اس کو کنسٹرکشن سروسز سے ٹیکس کی چھوٹ ہو گی۔ ریسٹورنٹس اور بیوٹی پارلرز پر بذریعہ کیش ادائیگی کرنے والے صارفین سے 16 فیصد جبکہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ سے ادائیگی کی صورت میں 5فیصد ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے جو معیشت کو ڈاکیومنٹ کرنے میں مدد دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے لیے پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی دو اقساط میں کی جا سکے گی۔ 30 ستمبر 2020 تک مکمل ٹیکس کی ادائیگی کی صورت میں ٹیکس دہندگان کو 5 فیصد کی بجائے 10 فیصد چھوٹ دی جائے گی۔ مالی سال 2020-21 کے سرچارج کی وصولی پر بھی مکمل چھوٹ ہو گی۔ انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی کی شرح کو 20 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کیے جانے کی تجویز ہے۔ تمام سنیما گھروں کو 30 جون 2021 تک انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی سے مستثنیٰ کئے جانے کی تجویز ہے۔ پراپرٹی ٹیکس کے نئے ویلیوایشن ٹیبل کا اطلاق بھی ایک سال کے لیے موخر کر دیا گیا ہے۔ ہاشم جواں بخت کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن ٹیکس کی مکمل ادائیگی کی صورت میں 10 فیصد کی بجائے 20 فیصد چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پنجاب اسمبلی کا اجلاس 18 جون دو پہر 2 بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔

Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں