37

ملک کو فوج نہیں عوام متحد رکھتے ہیں: وزیر اعظم

مشرقی پاکستان حقوق نہ ملنے سے الگ ہوا، آج فاٹا، بلوچستان ، اندرون سندھ میں عوام کی حالت خراب ،اچھے برے وقت آتے رہے ہیں


لیکن نظر یہ نہیں بدلنا چاہیے القادر یو نیورسٹی میں جدید سائنس اور ٹیکنالو بی کیساتھ ساتھ روحانیت بھی پڑھائی جائیگی ،
سوہاوہ میں تقریب سے خطاب ، افغان صدر کا فون ، خطے کی صورتحال پر گفتگو اسلام آباد ، سوہاوہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے نظریئے کو چھوڑ کر ہم نہ اسلامی رہے اور نہ ہی قلاتی رہے ، معاشی بحران اور اچھے برے حالات قوموں پر آتے رہتے ہیں،

لیکن نظر یہ چلا جائے تو قوم کا کوئی مستقبل نہیں رہتا، مشرقی پاکستان نظریے سے ہٹنے، انصاف اور حقوق نہ ملنے کی وجہ سے ہم سے الگ ہوا، ملک کو فوج نہیں عوام متحد رکھتے ہیں ، القادر یو نیورسٹی میں جدید سائنسی علوم کیسا تھ ساتھ روحانیت کی تعلیم دی جائیگی ،

اسلام کے خلاف اٹھائی جانے والی آوازوں اور رسول صلى الله عليه وسلم کی شان میں گستاخی کا جواب دیا جائیگا۔ ضلع جہلم کی تحصیل سوہاوہ میں روحانیات اور سائنس سے متعلق یو نیورسٹی ” القادر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس موقع پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار ، وفاقی وزراء سمیت عوام کی بڑی تعداد بھی موجود تھی ۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ جب 23سال پہلے انہوں نے سیاست شروع کی تھی تو ان کے ذہن میں یہ چیز تھی کہ انہیں موقع ملا تو وہ پاکستان کی نوجوان نسل کو پاکستان کے قیام کے مقصد اور نظریے سے آگاہ کریں گے ۔

قیام پاکستان کے پیچھے ایک اسلامی فلاحی ریاست کا نظریہ کار فرما تھا۔ علامہ اقبال نے جو تصور دیا تھا وہ اسلامی فلاحی ریاست، ریاست مد ینہ کی طرز پر تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مشرقی پاکستان نظریے سے ہٹنے کی وجہ سے ہم سے الگ ہوا، اس میں بھارت کی مداخلت سمیت دیگر عوامل بھی تھے۔ تاہم وہاں کے لوگوں کو مغربی پاکستان کی طرح حقوق نہیں مل رہے تھے،

انہیں انصاف نہیں مل رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم ملک کو واپس اس نظریے پر نہ لے آئے جس پر اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، تو میری پیشگوئی ہے کہ فوج ملک کو اکٹھا نہیں رکھ سکتی، بلکہ یہ عوام کی وجہ سے متحد رہتا ہے کیونکہ ریاست شہریوں کو انصاف دیتی ہے ،

ان کی ضروریات پوری کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بنیاد عدل و انصاف پر تھی، جن اصولوں پر مدینہ کی ریاست وجود میں آئی ، لیورپ اس عدل و انصاف اور اصولوں پر گامزن ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آج فاٹا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں عوام کی حالت زار انتہائی خراب ہے ،

اندرون سندھ میں 70 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ ہمارے آباؤ اجداد نے پاکستان کے قیام کے وقت جو وعدے کئے تھے کہ وہ ریاست نہیں۔ 23 سال پہلے سوچا تھا کہ اگر اللہ نے مجھے موقع دیا تو نظریہ پاکستان ، پاکستان کے قیام کے مقصد سے نوجوانوں کو آگاہ کروں گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نظریہ سے ہی لیڈر بنتا ہے جب نظر یہ ہی نہیں ہو گا تو لیڈر کیسے بنے گا ۔ 70 سالوں میں کتنے لیڈر آئے،

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ہر لیڈر پاکستان کے عوام کا خیر خواہ بن کے آتا تھا لیکن جاتے ہوئے دنیا بھر میں اسکی جائیدادیں ہوتی تھیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ یونیورسٹی اس مقصد کیلئے بنائی گئی ہے کہ نوجوانوں کو پاکستان کے قیام کے مقصد سے آگاہ کیا جائے۔ پاکستان کی بنیاد مد ینہ کی اسلامی فلاحی ریاست پر رکھی گئی تھی۔ مدینہ کی ریاست کے وہ کیا اصول تھے

 
 

اس بارے میں اس یو نیورسٹی میں ریسر چ ہوگی۔ کیسے غریب ترین مسلمانوں نے دنیا کی امامت کی اس پر تحقیق ہوگی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم کے بغیر دنیا میں کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ القادر یو نیورسٹی میں جدید علوم کیلئے چین سے مدد لیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سوہاوہ کی یہ جگہ جہاں یو نیورسٹی بن رہی ہے

اسے ترقی کا پہاڑ کہا جاتا ہے ، القادر یو نیورسٹی روحانیت کے سپہ سالار عبد القادر جیلانی سے منسوب ہے۔ انہوں نے کہا القادر یو نیورسٹی میں ہم بتائیں گے کہ سائنس کیسے اسلام کی ساتھ چلتی ہے ، روحانیت کو سپر سائنس بنائیں گے۔ بر صغیر اور دیگر علاقوں میں اسلام کا پیغام لیکر آنیوالے بڑے بڑے صوفي کرام پر تحقیق کیلئے کو ئی داره موجود نہیں تھا،

یہ کام القادر یو نیورسٹی کریگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ برا بھلا کہنے والوں کو القادر یو نیورسٹی سے تحقیق کی بنیاد پر جواب دیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا 9 / 11 کے بعد اسلام کی بیرمتی کی گئی، اس کا کوئی جواب دینے والا نہیں تھا۔ اس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طالب علم لیڈر بنیں گے ، اس یونیورسٹی کے ریسرچ پیپر ڈویلپ کریں گے ۔

نظریہ اور مدینہ کی ریاست کے بارے میں سکولوں کے طالبعلموں کو پڑھائیں گے ۔ انہوں نے کہا وین کو زبردستی کی زندگی میں نہیں لایا جا سکتا تاہم انہیں نظریہ سے آگاو تو کیا جاسکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی مچھر نوجوانوں پر حاوی ہو چکا ہے۔ موبائل فون کی وجہ سے بڑا مشکل وقت ہے۔ ہم نے اس کامقابلہ کرتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ علامہ اقبال دین ، قرآن کیسا تھ ساتھ مغربی فلسفہ کو سمجھتے تھے ، ان کا فلسفہ آج تک مسلمانوں کیلئے تر و تازہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا نوجوانوں کو جب اس بات کا علم ہو تو پاکستان کیوں بنا تھا، تو ہم دیکھیں گے کہ کیسے پاکستان ترقی کر تا ہے۔

انہوں نے کہا معاشی بحران اور اچھے برے وقت آتے جاتے ہیں تاہم اگر نظر یہ چلا جائے تو قوم کا کوئی مستقبل نہیں رہتا۔ وزیر اعظم نے کہا القادر یو نیورسٹی میں 35 فیصد ہو نہار بچوں کو سکالرشپس دی جائیں گی جبکہ بقیہ 65 فیصد پیسے دے کر تعلیم حاصل کریں گے ۔

مستقبل کے بڑے بڑے لیڈر یہاں سے نکلیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے آج کل کے سیاستدانوں میں اپنا پٹواری یا تھانیدار رکوانے کی د پی یا ترقیاتی بجٹ کی طلب ہوتی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک مکمل پرائیویٹ یونیورسٹی ہے اس کیلئے مل یو نیورسٹی کی طرز پر لوگوں سے فنڈز اکٹھے کئے گئے ہیں، اسے نمل یو نیورسٹی کی طرح ہی چلائیں گے۔

عمل میرٹ پر پاکستان بھر سے ذہین بچوں کو یہاں تعلیم جائیگی جبکہ اس کے کیمپس جلد دیگر شہروں میں بھی لیکر جائیں گے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان کو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ٹیلیفون کیا،

جس میں دونوں رہنماوں نے افغانستان اور خطے میں امن، سکیورٹی اور خوشحالی سے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم آفس سے جاری بیان کی مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کو برادر ملک سمجھتا ہے،

دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد کے لیے پاکستان اور افغان قیادت کو امن کے قیام، اقتصادی ترقی کے فروغ اور علاقائی خوشحالی کے لئے رابلے بڑھانے چاہئیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے افغانستان کے مسئلے کے پرامن حل تلاش کرنے کے لئے اپنے وژن کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل مکمل طور پر افغانوں کے اپنے اور انکی اپنی قیادت میں ہونا چاہیے۔

عمران خان اور اشرف غنی نے پاکستان اور افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا ادراک کرتے ہوئے علاقائی رابطوں کو بڑھانے اور سابی اقتصادی ترقی، غربت کے خا تھے اور دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح کے لئے پاکستان اور افغانستان کے حقیقی اقتصادی صلاحیت کا ادراک کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کی دعوت دی، د ورہ کی تاریخوں کا فیصلہ باہمی مشاورت سے ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں