11

لاڑکانہ ایڈز پھیلانے کے الزام میں ڈاکٹر گرفتار،15 افراد میں وائرس کی تصدیق کل تعداد 42 ہو گئی 22 بچے بھی شامل

رتو ڈیرو کے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر مظفر گھانگرو کی غفلت سے ایڈز پھیل جو خود بھی اچ آئی وی سے متاثرہ ہے، 110 افراد کی سکریننگ کی گئی ،


doctor-aressted-in-larkana

سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام، ہیلتھ کیز کمیشن جھوٹا کیس بنارہا ہے ، ڈاکٹر مظفر لاڑکانہ  میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہونے لگا، خصیل رتوڈیرو میں مزید 15 افراد میں ایڈز کی تصدیق ہو گئی ،

ایڈز پھیلانے کے الزام میں ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ، سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے میجر ڈاکٹر سکندر مین کے مطابق 15 افراد میں ایڈز کی تصدیق کے بعد رتو ڈیرو میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 42 ہو گئی ہے جن میں 22 بچے بھی شامل ہیں ۔

ڈاکٹر سکندر نے کہا کہ 15روز کے دوران 1100 افراد کی سکریننگ کی جا چکی ہے ایڈز کے پھیلاؤ کی وجہ معلوم کرنے کیلئے ٹیم آئندہ ہفتے رتوڈیرو آئے گی، ڈپٹی کمشنر نعمان صدیقی نے کہا کہ تعاقہ بنگلڈ میو ہسپتال میں سرکاری ڈاکٹر مظفر گھاگرو کی غفلت کی وجہ سے ایڈز پھیلا ،

یہ خبر بھی پڑھے: حکومت کی طر ف سے عوام کے لئے رمضان المبارک میں بڑی خوشخبری

رتوڈیرو تھانے میں ڈاکٹر مظفر کو گرفتار کر لیا گیا، ڈاکٹر مظفر کے مریضوں میں سب سے زیادها پی آئی وی پازیٹو پایا گیا تھا اور ڈاکٹر خود بھی ایچ آئی وی سے متاثرہ ہے ، وانح رہے صوبہ سندھ میں ایڈز کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد ضلع لاڑکانہ میں ہے جہاں رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد ڈھائی ہزار کے قریب ہے۔

دوسری جانب ڈاکٹر مظفر گھانگھرو نے میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ اسے علم نہیں تھا کہ وہ خو دا چ آئی وی سے متاثر ہے۔ اگر اسے پتہ ہوتا تو بچوں کا علاج نہ کر تا۔ وہ ڈاکٹر ہیں،

ان میں ایڈز کی کوئی علامات سامنے نہیں آئیں۔ اگر پہلے پتہ چلتا تو اپنا علاج کراتے ، ہیلتھ کیئر کمیشن اپنے آپ کو بچانے کے لیے ان پر جھوٹا بیس بنارہا ہے۔ شکار پور سے نمائندہ ایک پریس کے مطابق گاؤں سارنگ شہر کے دو بھائیوں ساگر اور ریحان شر میں بھی ایڈز وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں