55

شریف برادران اور زرداری دونوں کرپشن کے بانی ہیں

ناجائز دولت کی منتقلی کا ایک طریقہ اپنایا، ڈار نے جعلی اکاؤنٹس بنائے،92 میں قانون لا کر پیسہ وائٹ کیا، حدیبیہ ملز کے اکاؤنٹ میں 85 کروز کیسے آئے؟:


shareef and zardari family currupt

فواد چودھری زرداری نے جعلی اکاو نٹس کیلئے بینک ہی خرید لیا، حمزہ بتائیں مشتاق چینی والا کون ہے ؟ نصرت کے اکاؤنٹ میں رقم
آئی تو نیب اپو چھے گا ، شہر اد اکبر ، حماد اظہر ، پرلیس کا نفر نس وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہا ہے کہ شریف اور زرداری خاندان ملک میں جدید کر پشن کے بانی ہیں،

حدیبیہ سے شروع ہونیوالا منی لانڈرنگ کا سفر بل میل سے ہوتے ہوئے زرداری کے اومنی گروپ اور شہباز شریف کے پی ٹیز اور اکاؤنٹس تک نچ گیا ہے ، شریف اور زرداری خاندان نے بد عنوانی ، لوٹ مار اور دولت کی منتقلی کیلئے ایک ہی طریقہ کار اپنایا، احتساب کا عمل شفاف انداز میں آگے بڑھایا جارہا ہے اس میں کسی سے انتقام نہیں لیا جارہا ہے ،

 
 

بد عنوانی کے خلاف جنگ تمام طبقات کی جنگ ہے ، قوم، تمام اداروں اور طبقات کو وزیر اعظم عمران خان کا اس ضمن میں ساتھ دینا چاہیے۔ اتوار کو یہاں وزیر مملکت محصولات حماد اظہر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کے ہمراہ مشترکہ پریس کا نفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے جو کیسز سامنے آرہے ہیں، ضروری ہے قوم کے سامنے حقائق رکھے جائیں۔

یہ خبر بھی پڑھے: چیئرمین پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو نے شادی کا فیصلہ کرلیا

انہوں نے کہا کہ 1947 ء سے 2008ء تک پاکستان کا کل قرضہ 37 ارب ڈالر تھا، 2008ء سے 2018ء کے دوران پاکستان کا قرضہ 97 ارب ڈالر تک پہنچا۔ ان دس برسوں میں پاکستان پر قرضہ کے بوجھ میں 60 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔

ان دس برسوں میں زرداری اور شریف خاندان پاکستان کے حکمران رہے جنہوں نے ایک ہی طریقہ کار کے تحت قوم کا پیسہ لوٹ کر پہلے اسے باہر منی لانڈرنگ کے ذریعے بجھوایا اور بعد میں اس پیسے کا کچھ حصہ اسے مختلف طریقوں سے ملک واپس پہنچاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ بد عنوانی اور لوٹ مار کی کہانی شریف خاندان سے شروع ہوتی ہے۔

1985 ء میں نواز شریف وزیراعلی پنجاب اور 1990ء میں وزیر اعظم کا منصب سنبھالتے ہیں بعد میں شہباز شریف کو بھی اقتدار میں شامل کیا گیا۔ انکا ایک ہی مقصد تھا کہ سرکاری پیسے اور وسائل کو کس طرح کھایا جائے۔

1989 اور 1990 میں جب انکے پاس بہت سارا پیسہ جمع ہو اتو اسکے استعمال کا سوال پیدا ہوا، جس کے لئے 1992 ء میں اقتصادی اصلاحات کا ایکٹ متعارف کرایا گیا۔ انہوں نے کہا منی لانڈرنگ اور کرپشن کے حوالے سے حدیبیہ پیپر ملز ایک مثال ہے جو شر یف خاندان کی ملکیت تھی۔

97-1996 اور 98-1997ء میں حکام نے حدیبیہ پیپر ملز کے مشکوک لین دین کا مشاہدہ کیا۔ حدیبیہ پیپر ملز کی کل مالیت 9 کروڑ روپے تھی، جس میں اچانک 85 کروڑ روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا، تحقیقات پر معلوم ہوا کہ پیسہ کے وصول کنندہ اور فائده اٹھانے والوں میں میاں محمد شریف، شمیم اختر، عباس شریف، مریم صفدر ، صیہ عباس، حسین نواز اور حمزہ شہباز شریف شامل تھے۔

چوہدری فواد نے کہا کہ شریف خاندان نے منی لانڈرنگ کے ذریعے لوٹی ہوئی دولت باہر جینے کیلئے ایک شیطانی منصوبہ تخلیق کیا جس کی زمہ داری اقتصادی تار گر (مٹ مین کو سونپی گئی۔ اسحاق ڈار نے جعلی اکاؤنٹس بنائے، ہنڈی سے لوٹی ہوئی دولت باہر منتقل کی اور پھر اس کا کچھ حصہ چالیس افراد کے ذریعے وطن واپس منتقل کیا گیا۔

اسحاق ڈار نے 2000ء میں حکام کے سامنے خود اعتراف جرم کیا اور منی لانڈرنگ کی تمام تفصیلات بیان کیں تاہم پرویز مشرف کے دور میں این آر او کے ذریعے شریف خاندان ملک سے واپس چلا گیا اور یوں اس کیس پر پیشرفت نہ ہو سکی ۔

انہوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپر ملک میں بد عنوانی کے جس طریقہ کار کو اختیار کیا گیا تھاوہی طریقہ کار ہل میٹل میں بھی اختیار کیا گیا۔ بل میٹل کیس میں حسین نواز نے ایک ارب 16 کروڑ 56 لاکھ روپے نواز شریف کو ئی ٹی کے ذریعے بھیجے۔

نواز شریف نے 82 کروڑ روپے مریم نواز کو دیے جس سے زرعی اراضی خریدی گئی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ بد عنوانی کے حوالے سے آصف زرداری نے اسی ماڈل کے ساتھ ساتھ اختراعی طریقہ کار اپنایا۔

آصف زرداری نے پورا بنک خرید اور سندھ میں نیٹ ورک بنایا گیا جس کے تحت جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے، تحقیقات کے نتیجہ میں پتہ چلا کہ پانچ سو کے قریب اکاؤنٹس ایسے ہیں جو 32 اکاؤ نٹس سے چلائے جار ہے ، بلاول ہاؤس کے اخراجات اور بختاور کی سالگرہ کے اخراجات کی ادا بھی کبھی انہی اکاؤنٹس سے ادا کئے گئے۔

یہ سارا نیٹ ورک اومنی گروپ، ھیکیداروں، سندھ کیلئے پی ایس ڈی پی کے فنڈز ،ماڈلز اور مشکوک اکاؤ نٹس پر مشتمل تھا جس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی جاتی رہی ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کی جب تحقیقات شروع ہوئیں تو اکتوبر اور نومبر میں اچانک شہباز شریف خاندان کے ارکان آہستہ آہستہ باہر جانے لگے،

نصرت شہباز ، علی عمران، سلمان شہباز اور شہباز شریف کی بیٹیاں ملک سے باہر جانے لگے۔ حکام نے مشاہدہ کیا کہ شہباز شریف خاندان سے متعلق 200 سوئفٹ پیغامات یا ٹی ٹی کے ذر یور قوم بجھوائی گئی ہیں۔

ان سوئفٹ پیغامات کے ذریعے شہباز شریف کو 36 ملین ڈالر کی منتقلی ہوئی ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جو پی ٹیز شہباز شریف خاندان کے ارکان کو ہوئی ہیں ان میں سے ٹی ٹی کے ذریعے حمزہ شہباز کو انکی کال ڈکلیئر اثاثوں کا پچانوے فیصد، سلمان شہباز کو 99 فیصد ، نصرت شہباز کو 85 فیصد اور شہباز بیٹیوں کو 100 فیصد بھیجے گئے۔

یہ پیسے پاکستان میں نہیں مانے گئے۔ شہباز شریف نے جو اثاثے ڈکلیئر کئے ہیں اس میں واحد ڈکلیئر انشانہ تنخواہ کا ہے جو اس نے وزیر اعلی کے طور پر لیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ دو سپرنگ پائن اسلام آباد ڈی ایچ اے فیز 5 میں تہمینہ درانی کے لئے بنگلہ خریدا گیا۔ شہباز شریف نے تین اپار منٹس خریدے ہیں جن کی ادائیگی بھی ٹی پی کے ذریعے کی گئی ہے۔

شہباز خاندان نے ٹی ٹی کے ذریعے خریداری کی ہے اس میں 187 ماڈل ٹاؤن ، ڈی ای اے فیز 5 ، لاہور میں تہمینہ درانی کے نام اراضی، اسلام آباد میں تہمینہ درانی کے نام اراض شامل ہے ،

اگست 2008ء میں نصرت شہباز نے ٹی ٹی کے ذریعے فنڈز شہباز شریف کو فرانسفر کئے جس سے لگژری گاڑی کی کسٹم ڈیوٹی ادا ہو گی۔ جو 200 ٹی ٹیز کی گئی ہیں اس میں سے 70 کے قریب کی شناخت ہوتی ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے شہباز شریف خاندان کو پیسے جیسے ہیں۔ ان میں پنڈ دادنخان سے تعلق رکھنے والا پاپڑ فروش منظور بھی شامل ہے

جس نے ایک ملین ڈالر کی ٹی پی کی ہے اسی طرح صادق پیازہ کے سامنے ریڑھی لگانے والے محبوب علی کے ذریعے تین لاکھ ڈالر کی ٹی بی کرائی گئی اسی طرح رفیق نامی ایک ایسے شخص کے شناختی کارڈ پرٹی ڈی کی گئی ہے جو بہت عرصہ پہلے انتقال کر چکے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف انگی لہرا لہرا کر کہتے تھے کہ اگر ان پر ایک پیسے کی بھی کرپشن ثابت ہو جائے وہ سیاست چھوڑ دیں گے آج حقیقت قوم کے سامنے آگئی ہے۔

حدیبیہ سے شروع ہونے والا سفر میل میٹل سے ہوتے ہوئے زرداری کے اومنی گروپ اور شہباز شریف کے پی ٹیز تک بن گیا ہے ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ احتساب کا عمل آگے بڑھے گا، بد عنوانی کیخلاف جنگ تمام طبقات کی جنگ ہے، اس جنگ میں قوم تمام اداروں اور طبقات کو وزیراعظم عمران خان کا ساتھ دینا چاہئے ۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے عوام کا پیسہ لوٹ کر باہر بھیجا گیا یہ ہمارے بچوں کا پیسہ ہے۔ مہنگائی ، ڈالر کی قدر میں اضافہ اور ہمارے بیشتر مسائل کے ذمہ دار پاکستان پر ایک عشرے سے زیادہ حکومت کرنے والے یہ دو خاندان ہیں۔ احتساب کا عمل شفاف انداز میں آگے بڑھایا جارہا ہے اس میں کیا سے انتقام نہیں لیا جارہا، انشاء اللہ بد عنوانی کا پیسہ پاکستان لائیں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب سے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال
نے چیئر مین نیب کا منصب سنبھالا ہے اس وقت سے ادارے کی کار کردگی میں بہتری آرہی ہے۔ بد عنوانی کے مقدمات طویل ہوتے ہیں اور اس میں عرصہ لگتا ہے۔

انہوں نے کہا وزیراعظم پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں اور ان کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے۔ وزیر مملکت حماد اظہر نے بتایا کہ اسحاق ڈار مفروضوں پر بات کر رہے ہیں، اسحاق ڈار نے ملکی معیشت کو تباہ کیا ہے، آج تک کسی اقتصادی ماہر نے انکی پالیسیوں کی حمایت نہیں کی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے بتایا کہ دس برسوں میں دونوں خاندانوں نے ایک ہی مقصد اور ایک ہی طریقہ کار کے تحت لوٹ مار کی حتی کہ ایک جیسے ایجنٹوں کا استعمال کیا گیا۔ کل خواتین کی گرفتاری کا ایک ایشو کھڑا کیا گیا،

خواتین تقابل احترام ہیں لیکن قانونی بات یہ ہے کہ اگر نصرت شہباز کے اکاؤنٹ میں ملین ڈالر کی ٹی ٹی ہوتی ہے یا انکے صاحبزادوں اور صاحبزادیوں کے اکاونٹس میں رقوم منتقل ہوتی ہیں تو نیب کو سوال کر نیکاحق ہے اگر نیب سوال نہیں کر لیا تو اس کے کردار پر سوالات اٹھیں گے ۔

انہوں نے کہا کرپشن کے خلاف جنگ کی ذمہ داری صرف عمران خان کی نہیں پوری قوم کی ہے۔ تحقیقات جاری ہے اور ن لیگ کی بھی کوئی ایان علی سامنے آجائیگی۔ حکومت نیب کو فنڈ فراہم کر سکتی ہے، نیب پراسیکیوشن بہتر ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں