35

مشکل وقت گزر جاتا ہے؛عمران خان

ڈیوڈ لیلین تھال ہارورڈ یونیورسٹی کا لاء گریجوایٹ تھا، اس نے وکالت شروع کی مگر اسے وکالت سے بڑے کام کرنے کی آرزو تھی۔


blog of the day

دنیا کے مختلف ملکوں پر مشکلات آتی ہیں مگر وہاں کے انسان ہمت، حوصلے اور ذہانت سے یہ وقت گزار کر اچھے اور عمدہ حالات کی طرف چل پڑتے ہیں۔

امریکہ 1940ء میں خوفناک مالیاتی بحران کا شکار تھا، امریکی صدر روز ویلٹ نے معیشت کی بہتری کے لئے کچھ بڑے منصوبے لگانا شروع کئے،

ایک روز صدر کا دوست ڈیوڈ لیلین تھال ملنے آیا، روز ویلٹ نے ڈیمز بنانے کی ذمہ داری لیلین تھال کو سونپ دی۔ لیلین تھال وکیل تھا،

اس نے ڈیمز بنانے کی ذمہ داری قبول کرتے وقت دو شرائط رکھ دیں، ایک فیصلوں میں آزادی ہو گی اور دوسری یہ کہ وہ صرف اور صرف صدر کو جوابدہ ہو گا، اس کے بعد وہ کام میں لگ گیا،

اُس نے امریکہ کی ایک بڑی ریاست ٹینیسی میں درجنوں ڈیمز بنائے۔ اس دوران اسے پتہ چلا کہ جوہری توانائی اس سے بھی سستا طریقہ ہے، وہ یہ تجویز لے کر صدر کے پاس گیا تو اسے اٹامک انرجی کمیشن کا سربراہ بنا دیا گیا۔

یہ خبر بھی پڑھے: سعودی عرب کے کیساتھ 20 ارب ڈالر مالیت کے 7 معاہدوں-

اب وہ اٹامک انرجی اور جدید ڈیمز کا بانی کہلوانے لگا۔ لیلین تھال پچاس کی دہائی میں سرکاری افسروں کو لیکچر دینے کیلئے پاکستان آیا، وہ پاکستانی قوم کے جذبے، دیانتداری، محنت اور ہمت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی جغرافیائی خوبصورتی کا قائل ہو گیا، اس نے پاکستان کو پانی اور بجلی دونوں میں خودمختار بنانے کا فیصلہ کیا۔

اس وقت ورلڈ بینک کا صدر یوجین رابرٹ بلیک، ڈیوڈ لیلین تھال کا ذاتی دوست تھا، لیلین تھال ورلڈ بینک کے صدر یوجین رابرٹ بلیک کو پاکستان لے آیا۔ پاکستان میں اس وقت فیروز خان نون کی حکومت تھی،

ڈیوڈ لیلین تھال کے مشورے سے پاکستان میں واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) بنا دی گئی، اسے کئی ملکوں نے کاپی کیا۔

1958ء میں مارشل لاء لگا، جنرل ایوب خان صدر بن گئے، بھارت نے پانی کے مسئلے پر پاکستان کو تنگ کرنا شروع کیا، اس مرحلے پر یوجین رابرٹ بلیک نے ایوب خان کو کچھ مشورے دیئے

اور یوں 1960ء میں بھارت کو مجبور کر کے ورلڈ بینک نے سندھ طاس معاہدہ کروایا۔ بھارت میں لوگ آج بھی سندھ طاس معاہدے کو نہرو کی سیاسی غلطی قرار دیتے ہیں۔

قدرت پاکستان پر 1958ء سے لے کر 1970ء تک بہت مہربان رہی، ہمارے بہت سے منصوبے اسی دور میں پایۂ تکمیل کو پہنچے۔ قدرت کی نوازشات کے اس عہد میں ملک کو دیانتدار، ایماندار اور وژنری سیاستدان، افسران اور تاجر ملے۔

1970ء کے بعد تو ایسے ہوا گویا کہ قدرت ہم سے روٹھ گئی ہو۔ اس روٹھ جانے سے مجھے ترکی یاد آتا ہے۔ ترکی کے حالات بھی ہم جیسے تھے بلکہ ہم سے بھی ذرا برے تھے،

وہاں بھی دو پارٹیاں تھیں، لوٹ مار تھی، طیب اردگان نے پارٹی بنائی، وہ جیت کر وزیراعظم بنے تو پتہ چلا کہ ترک بینک کے پاس صرف پانچ ارب ڈالر کا زرمبادلہ ہے،

ترکی آئی ایم ایف کا نوے ارب ڈالر کا مقروض ہے۔ مہنگائی کی لہر میں طیب اردگان کے مخالفین کہنے لگے کدھر ہے تبدیلی، کہاں ہے ترقی؟ طیب اردگان نے سادگی اختیار کی، چھوٹے کاروبار پر فوکس کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اگلے تین سال میں ترکی اپنے پائوں پر کھڑا ہو گیا، اس استقامت کے ساتھ ہی ترکی کے مفرور سرمایہ کار واپس آنے لگے۔

بیرونی سرمایہ کاری بھی آنے لگی۔ ترکی کی معیشت ترقی کرنے لگی۔ 2011ء میں ترک حکومت نے آئی ایم ایف کو آخری قسط واپس کی۔ 2012ء تک ترکی کے سینٹرل بینک کے پاس 26ارب ڈالر کے ذخائر تھے آج ترک بینک کے پاس 182ارب ڈالر ہیں، آج ترکی دنیا کی 17ویں بڑی معیشت ہے۔

خواتین و حضرات! پاکستان بھی گزشتہ چالیس سال بحرانی دور سے گزرا، آخری دس سال تو ایسے تھے کہ اہل اقتدار کو ملک کی پروا ہی نہیں تھی ان دس میں بھی آخری پانچ سال تو بڑے بھیانک تھے۔ چھ سات ماہ پہلے الیکشن جیت کر عمران خان وزیراعظم بنے تو معیشت کی کشتی ہچکولے کھا رہی تھی۔

ملک پر 94ارب ڈالر کا قرضہ تھا، تجارتی خسارہ الگ تھا، پاکستان کے پاس آٹھ ارب ڈالر کے ذخائر تھے۔ عمران خان نے اپنے وزیر خزانہ کی غلط حکمت عملی کو بھانپتے ہوئے خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا، اس نے دوست ملکوں کا رخ کیا، تعاون مانگا اور آفرین ہے پاکستان کے دوستوں پر، انہوں نے بھرپور تعاون کیا۔

اس دوران بالکل ترکی کی طرز پر ملک کے اندر اپوزیشن شور مچاتی رہی، کہاں ہے تبدیلی، کدھر ہے تبدیلی؟ وزیراعظم کیوں کشکول لے کر پھر رہا ہے؟ عمران خان نے یہ تمام باتیں سنیں اور صرف یہ کہا کہ ملک میں کرپشن برداشت نہیں کروں گا، اُس نے کسی کے کہنے کی کوئی پروا نہ کی بلکہ اپنا سفر جاری رکھا۔

اس نے ٹیکسوں میں چھوٹ دے کر اپنے ملک کے چھوٹے کاروباری افراد کو متوجہ کیا، اس نے بیرونی دنیا کو بھی متوجہ کیا، اب حالت یہ ہے کہ دنیا پاکستان کی طرف امڈ رہی ہے، سرمایہ پاکستان میں آ رہا ہے۔

پاکستان سرمایہ کاری، کاروبار اور سیاحت کے دروازے پوری دنیا کے لئے کھول رہا ہے اب صرف چند برس کا انتظار ہے جب ہم قرضے کی آخری قسط ادا کر کے پاکستان کو قرضوں سے فری کر دیں گے۔ بہت قریب ہے جب ڈالر کا ریٹ بہت کم ہو جائے گا، پاکستان ترقی کے عمل میں آگے نکل جائے گا، پاکستان کے پاس اچھے خاصے ذخائر ہوں گے۔

وزیر اعظم پاکستان اگلے ڈیڑھ دو مہینے میں بڑی حیران کن تقریر کرنے والے ہیں۔ اس تقریر کے بعد اپوزیشن پارٹیاں منہ دیکھتی رہ جائیں گی۔ مجھے تو منصور آفاق کا شعر رہ رہ کے یاد آ رہا ہے کہ ؎

آگ جلتی ہے کہیں برف کے دل میں منصورؔ

حسن کے سرد رویئے سے میں مایوس نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں