24

سعودی ولی عہدکادورہ8 معاہدوں پر دستخط ہو گے-

شراکت داری کی نئی راہیں کھلیں گی، ایران خانہیں خوش ہوگا پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کر نیکی بھارتی کوششیں ناکام رہیں: وزیر خارجه 


visit of Saudi prince

20 بڑے
سعودی سرمایہ کار بھی آرہے ہیں : رزاق داود اسلام آباد، خصوصی نیوز رپورٹر مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کو میان تنازع میں جھونکنے کی سازش نہیں کی جارہی ۔ سعودی ولی عہد کے دو روزہ دورہ پاکستان
سے پاک سعودی تعلقات نئے دور میں داخل ہورہے ہیں۔ اب ملک میں خوشگوار تبدیلی کا عملی مظاہر 160 اور 17 فروری کو دکھائی دے گا۔ کی تاریخ میں سعودی عرب سے اتا با او د بھی نہیں آیا۔ شراکت داری کی نئی راہیں کھلیں گی۔ سعودی عرب کے ساتھ کم از کم آٹھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے۔

ان معاہدوں پر عملدر آمد اور معاملات بہتر انداز میں چلانے کیلئے کو آرڈ نیشن کونسل تشکیل دی جائیگی۔ سعودی ولی عہد اور پاکستان کی طرف
سے وزیر اعظم عمران خان کونسل کی سربراہی کریں گے۔ سعودی ولی عہد کے دورے سے ایران خفقانہیں بلکہ خوش ہو گا۔ دیگر وفاقی وزراء کے ساتھ یہاں پر یس کا نفرنس میں شاہ محمود نے کہا سعودی عرب پاکستان کا اعتماد دوست تھا تاہم اس میں خلا آ گیا تھا۔ پچھلی حکومت کے سعودی عرب سے ساتھ تعلقات سرد مہری کا شکار تھے۔ وزیراعظم کے دونوں دوروں میں اس سرد مہری کو ختم کرنے میں مدد ملی، وزیر اعظم نے اس تعاون کو شراکت داری میں بھی بدلنے کی بات کی۔ ہم کشکول سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ موجودہ حکومت سات ماہ میں جو غیر ملکی سرمایہ کاری لارہی ہے وہ پچھلی حکومتیں گزشتہ دس سال میں لائیں۔

دیگر عرب ممالک سے بھی تجارتی پار شفر شپ قائم ہورہی ہے۔ ہمارے ہاں کچھ اچھی چیز بھی ہو جائے تو شک کیا جاتا ہے ، پاکستان میں این آر او کا چرچا ہے۔ سی پیک کے تحت تین ایل اقتصادی زون بنیں گے، ہم چاہیں گے گوادر ان جی تجارت کا ایک مرکز بن جائے ہم متحدہ عرب امارات کو بھی خوش آمدید کہیں گے ۔ ایک ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری چند ماہ میں ہو چکی ۔ ہمارے ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہاروس میں افغان مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی تھی – میونخ کا نفرنس میں شرکت کیلئے آج جرمنی جار ہا ہوں، جہاں افغان صدر کے علاو وروس، جرمنی، ازبکستان اور کینیڈا کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں ھے ہیں ۔ امریکا کے ساتھ تعلقات رکی سیٹ ہو چکے ہیں ، مائیک پوم پور اور زلمے خلیل زاد کے ساتھ ملاقات مفید رہی۔

زلے خلیل زاد کا پاکستان کے حوالے سے بیان اطمینان بخش
ہے، جرمنی میں امریکی سینیٹروں کے ساتھ ملاقات بھی ہو گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا وزیراعظم عمران خان کا مشرق وسطی کے ساتھ تعلقات میں اہم کردار ہے۔ زوالفقار بھٹو کے بعد پہلی بار عمران خان نے مشرق وسطی سے تعلقات بہتر کئے۔ سعودی ولی عہد کادورہ تار بھی ہے۔ مشیر تجارت عبد الرزاق داؤد نے کہا کہ سعودی وفد کے ساتھ میں بڑے سرمایہ کار بھی پاکستان آرہے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہو گیا۔ وہ زراعت ، معدنیات ، کان کنی اور آئل ریفائنگ میں بھی رکھتے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھے: پی ٹی آئی نے خود نواز شریف کو لندن بھیجنے کا راستہ تیار کرلیا؟

اس
کے علاوہ سندھ اور بلوچستان میں ونڈ انر بی میں سرمایہ کاری ہو گی۔ سعودی عرب کی جانب سے سب سے زیادہ سرمایہ کاری آئل ریفائنری میں ہو گی۔ پاکستان میں تیل کی مصنوعات کی بہت طلب ہے، آئندہ دو سال میں سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع ہے ۔ وہ پنجاب میں آر این جی پلانٹ میں دپی رکھتے ہیں ۔ خوراک و زراعت میں دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ چیئر مین سرمایہ کاری بورڈ ہارون شریف نے کہا ایم او یوز ہونے کے بعد فیری سیبلٹی سٹڈی شروع ہو جائیگی۔ توانائی کے شعبے میں 3 بڑے معاہدے ہوں گے ، ان معاہدوں

سے ٹیکنالو بتی کی منتقلی اور صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ روزگار بڑھے گا، تمام منصوبے کھلے عام بولی کے ذریے دینے جائیں گے ۔ قائمہ کمیٹی خارجہ امور کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے شاہ محمود نے کہا پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام رہی ہیں، دنیا پاکستان سے تعلقات بنارہی ہے ، یہ پاکستان پر اعتماد کا اظہار ہے، یہ بھارت یقینا پسند نہیں کرے گا اور وہاں صف ماتم تو چھے گی۔ میں پاکستان کی کامیابی ہے۔ دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے ، دنیاپاکستان سے رابطے کر رہی ہے۔ شاہ محمود نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات سے جو ائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز میں ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال اور داخلی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں