34

غیر ملکی نیٹ ورک بے نقاب، سینئر پاکستانی عہدیدار سمیت 5؍ گرفتار

 ایک بہت بڑے اور کامیاب آپریشن کے نتیجے میں پاکستان کی سرکردہ انٹیلی جنس ایجنسی نے دنیا کے ایک طاقتور ملک کے خفیہ ادارے کے جاسوس نیٹ ورک کو ختم کر دیا ہے،


یہ نیٹ ورک ملک میں قائم کیا گیا تھا اور یہ سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ افسران پر مشتمل تھا۔ باخبر ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ ایک ’’سینئر ترین سیکورٹی عہدیدار‘‘ (جو چند سال قبل ہی ریٹائر ہوئے تھے) کے ساتھ چار سے پانچ لوگ اور بھی تھے جو سیکورٹی فورسز میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان سب کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان سے مذکورہ غیر ملکی ایجنسی کے ساتھ تعلق کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

گرفتار شدگان میں ایک افسر یورپی دارالحکومت میں قائم پاکستانی سفارت خانے میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ گرفتار شدگان میں ایک شخص ’’سینئر ریٹائرڈ عہدیدار‘‘ ہے جسے طاقتور ملک کی خفیہ ایجنسی کیلئے جاسوسی پر آمادہ کیا گیا تھا۔ نیٹ ورک کے ذمہ’’سیکورٹی امور کے حوالے سے حساس معلومات‘‘ مذکورہ خفیہ ایجنسی کو فراہم کرنا تھا لیکن پاکستانی ایجنسی نے ’’شاندار آپریشن‘‘ کرتے ہوئے پورے نیٹ ورک کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔

ماضی میں بھی اسی غیر ملکی خفیہ ایجنسی کی جانب سے ایسی کوششیں کی جاتی رہی ہیں لیکن پاکستانی سیکورٹی ایجنسیاں کامیابی کے ساتھ ایسے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرکے ختم کر رہی ہیں۔ ایبٹ آباد کمیشن کی مبینہ طور پر لیک ہونے والی رپورٹ میں ’’حقانی کے لوگوں‘‘ کو بھی پاکستان میں مذکورہ ایجنسی کے ملک گیر نیٹ ورک کے قیام اور اس کی مدد کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ حقانی کے لوگ پاکستان میں ملکی مفادات کی بجائے غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے مفادات کیلئے کام کر رہے تھے۔

یہ الزام بھی عائد کیا گیا تھا کہ حسین حقانی براہِ راست رپورٹ کر رہے تھے اور پاکستان میں موجود مذکورہ غیر ملکی ایجنسی کے لوگوں کی براہِ راست ہدایات پر انحصار کر رہے تھے، اور وہ اکثر اوقات وزارت خارجہ کے موزوں رپورٹنگ چینل کو نظر انداز کر دیا کرتے تھے۔ کئی سال قبل، میڈیا رپورٹس میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ سابق آمر جنرل پرویز مشرف نے 9/11 کے بعد کی صورتحال کے تناظر میں طاقتور ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اجازت دی تھی کہ وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنے ایجنٹ بھرتی کریں۔

یہ جنرل پرویز مشرف کے اپنے چیف آف جنرل اسٹاف (سی جی ایس) لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز ہی تھے جنہوں نے 2009ء میں دی نیوز کو بتایا تھا کہ اپنی حکومت میں جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف ڈرونز کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی بلکہ طاقتور ملک کی 2؍ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنے ایجنٹس بھرتی کرنے کی بھی اجازت دی۔

2؍ مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں ہونے والے حملے سے تین ماہ قبل، دی نیوز میں ایک تفصیلی خبر شائع ہوئی تھی کہ کس طرح پاکستان میں اسی طاقتور ملک کی دو ایجنسیوں کے سب سے بڑے نیٹ ورکس کام کر رہے ہیں اور اس مقصد کیلئے طاقتور ملک کے حکام نے جنرل مشرف کو 9/11 کے بعد ناقابل یقین مراعات فراہم کی تھیں۔

نہ صرف یہ کہ جنرل پرویز مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں طاقتور ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو مقامی ایجنٹس بھرتی کرنے کی اجازت دی تھی بلکہ طاقتور ملک کے حکام کو بلا روک ٹوک ملک میں کہیں بھی آنے اور جانے کی اجازت تھی۔ دی نیوز میں فروری 2011ء میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ تو ایسا بھی ہوا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ کون آ رہا ہے اور کون جا رہا ہے،

کیا کچھ لایا جا رہا ہے اور کیا لیجایا جا رہا ہے۔ ان سہولتوں میں سے ایک ایسی بھی تھی جس سے طاقتور ملک کے ’’حکام‘‘ اور ’’سفارت کار‘‘ مستفید ہو رہے تھے، وہ یہ تھی کہ یہ لوگ ہوائی اڈے پر بلا روک ٹوک آتے اور روانہ ہو جاتے تھے اور بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد میں ان کا سامان بھی چیک نہیں ہوتا تھا۔

اکتوبر 2009ء میں اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل شجاع پاشا کی براہِ راست مداخلت پر یہ سہولت ختم کر دی گئی۔ بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد کا گیمن گیٹ بنیادی طور پر کھانے پینے کی چیزوں (فوڈ کیٹرنگ) کیلئے استعمال کیا جاتا تھا اور اس کا راستہ براہِ راست ایئرپورٹ کے باہر نکلتا تھا اور اس کیلئے امیگریشن اور کسٹم چیک سے بھی گزرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

یہ گیٹ طاقتور ملک کے عہدیداروں اور اقوام متحدہ کے حکام کیلئے مختص کر دیا گیا تھا۔ اس خصوصی سہولت کی وجہ سے غیر ملکی حکام ایئر پورٹ پر بلا روک ٹوک آمد اور روانگی کر سکتے تھے۔ اس سہولت کا بھرپور انداز سے غلط استعمال کیا گیا اور اس بات کی اطلاعات تھیں کہ حساس ساز و سامان حتیٰ کہ اسلحے کی غیر مجاز اور غیر اعلانیہ درآمد کی گئی۔

اس صورتحال نے پاکستانی حکام کیلئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں اور وہ یہ سہولت ختم کرنے پر مجبور ہوئے لیکن بہت نقصان پہلے ہی ہو چکا تھا۔ اس موضوع پر 2009ء میں جاری ہونے والی رپورٹ میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے خود اعتراف کیا کہ کسٹم اور امیگریشن حکام کے پاس اسٹاف / انتظامات نہیں ہیں کہ وہ غیر ملکیوں اور عملے وغیرہ کے لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکے۔ طیاروں سے متعلق سامان،

عملہ اور ان کا ذاتی لگیج (سامان) بھی اسی گیٹ سے گزرتا ہے۔ گیمن گیٹ پر آنے اور جانے کے راستوں تعینات اے ایس ایف اسٹاف چیکنگ کے دوران، غیر ملکی گاڑیاں اور ان کے پاس موجود لگیج کی مناسب انداز سے چیکنگ نہیں کرتے اسلئے غیر ملکیوں کی اس گیٹ سے آمد و رفت فوری طور پر بند کی جائے کیونکہ یہ سیکورٹی کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل پاشا کے دور میں غیر ملکی ایجنسیوں کے پاکستان میں قائم ایسے نیٹ ورکس کے خاتمے کیلئے کئی کامیاب آپریشنز کیے گئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں