31

نواز شریف کو العزیز یہ ریفرنس میں 7 سال قید

سابق وزیراعظم پر پونے چار ارب روپے کا جرمانہ بھی عائد ، 10 سال کیلئے عوامی عہد ہ کیلئے نا اہل قرار


بل میل جائیداد کو سرکار ضبط کر نیکا علم، حسن اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری، فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کیخلاف ثبوت نہیں ، احتساب عدالت استفانی کر پشن اور کرپٹ پر کیشن کا الزام ثابت کرنے میں کامیاب رہا،

 
 

سابق وزیر اعظم العزیزیہ ، ہل میٹل کے حقیقی اور بین فیشل مالک، منی ٹریل نہیں دی جبکہ دونوں بیٹے حسین اور حسن نواز بار بار علی کے باوجود عدالت پیش نہیں ہوئے، 131 صفحات پر تفصیلی فیصلہ جاری 10 دن میں اپیل کی جا سکتی ہے ، عدالت ، سابق وزیر اعظم کی کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کر نیکی استدعا منظور،

 
 

ایمانداری سے ملک اور عوام کی خدمت کی ، بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا نہ کر پشن کی، ایسا کام نہیں کیا جس پر سر جھکانا پڑے: نواز شریف اسلام آباد (اینم نقوی، نعیم اصغر ) اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نیب آرڈیننس کے سیشن 9 اے فائیو کے تحت جرم ثابت ہونے پر 7 سال قید بامشقت ،

پونے چار ارب روپے جرمانے کی سزا سناتے ہوے 10 سال کیلئے کسی بھی سرکاری یا عوامی عہدہ اور بنک قرض لینے پر پابندی کی سزا کا حکم سنا دیا ، عدالت نے العزیزیہ اور ہل میٹل جائیدادیں بیت سرکار ضبط کر نے کا بھی حکم دیدیا جبکہ ناکافی شواہد پر فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بری کر دیا، عدالت نے نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ،

فیصلہ کے بعد نواز شریف کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، آج منگل کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائیگا، فیصلے کے بعد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کی خدمت کرنے کا صلہ مجھے سزا کی صورت میں ملا، اپنے دور حکومت میں نہ ہی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور نہ کر پشن کی، سمجھ ہی نہیں آرہی مجھے سیز اس کی مل رہی ہے ، میرا ضمیر مطمئن ہے کہ کرپشن کے پاس سے نہیں گزرا، سول بالادستی کیلئے آخری حد تک جاؤں گا،

جب جنگ حق اور پچ پر ہو تو حو صلہ اللہ دیتا ہے۔ پیر کو احتساب عدالت کے جار شد ملک نے 131 صفحات پر شتل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کے خلاف ثبوت نہیں لہذا انہیں بری کیا جاتا ہے جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں استفات نواز شریف کے خلاف کرپشن اور کرپٹ پر کیشن کا الزام ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔

نواز شریف العزیزیہ اور بیس میل کے حقیقی اور بین فیشل مالک ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف منی ٹریل دینے میں ناکام رہے ہیں ۔ ملزم نے اپنے دفاع میں کوئی ایک بھی شہادت پیش نہیں کی جبکہ ان کے دونوں بیٹے حسین نواز اور حسن نواز بار بار طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

العزیزیہ اور بل میل بنانے کیلئے سر مایہ نواز شریف کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتد العزیزیہ کیلئے 6ملین اور میل کیلئے 16 ملین ڈالر کی خطیر رقم ہے۔ نواز شریف اور ان کے بچوں سب کے پیسے جمع کریں تو بھی آمدن نہیں تھی۔

بار ثبوت نیب نے نواز شریف پر منتقل کر دیا جس کے بعد نواز شریف کو بتاناتھا کہ اثاثے کیسے بنائے لیکن نواز شریف العزیز به اور ہل میٹل کیلئے اثاثے نہیں بتا سکے۔ صفائی کیلئے نواز شریف کی طرف سے جھوٹ اور بے بنیاد موقف اپنایا گیا جس کی قانون میں کوئی اہمیت نہیں ۔ حسن اور حسین نواز کے پاس ر قوم کی ترسیل کیلئے اصل دستاویزات ہو تیں تو پیش کرتے ۔

 
 

حسین نواز نے نواز شریف کو رقوم دینے کا اعتراف کیا لیکن صفائی دینے کیلئے عدالت نہیں آئے۔ حسن اور حسین نواز اپنے زیر قبضہ اثاثوں اور جائیدادوں کیلئے ذرائع آمدن بتانے کیلئے کوئی ثبوت نہ دے سکے۔ تھر میری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ، شہادتوں اور دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزمان نے ایک دوسرے سے مل کر بد عنوانی کی ۔

 
 

عدالت نے حکم دیا کہ العزیزیہ ریفرنس کے تمام شواہد اور دستاویزات محفوظ رکھی جائیں تا کہ حسن اور حسین نواز کی واپسی پر انہیں گرفتار کر کے کاروائی کی جائے۔ نیوز ایجنسیوں کے مطابق احتساب عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی جانب سے منی ٹریل نہیں دی گئی اور اس ریفرنس میں کافی ٹھوس ثبوت موجود ہیں لہذا نواز شریف کو 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی جاتی ہے جبکہ ڈیڑھ ارب روپے اور اڑھائی کروڑ ڈالر جرمانے کا حکم سنادیا۔

 
 

تفصیلی فیصلے کے مطابق نیب آرڈی نینس کی سیشن 32 کے تحت فیصلے کیخلاف متعلقہ ہائی کورٹ میں دس دن میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے انہیں اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور جیل منتقل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور ان کے ڈاکٹر ز لاہور میں ہیں ،

نیب پراسیکیوٹر نے درخواست کی مخالفت کی گئی جس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ فیصلہ میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر ہو گا۔ بعد ازاں عدالت نے نواز شریف کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کا حکم دیدیا ۔

اس موقع پر نیب ٹیم اور نواز شریف کے در میان مکالمہ ہوا اور سابق وزیراعظم نے نیب کے ساتھ اڈیالہ جیل جانے سے انکار کر دیا ۔ نواز شریف نے نیب ٹیم سے پوچھا کہ کہاں لے کر جار ہے ہیں؟ جس پر نیب ٹیم نے کہا پہلے اڈیالہ لے کر جائیں گے اور کل مسیح کوٹ لکھپت لے جایا جائے گا۔ نیب کے جواب کے بعد نواز شریف نے نیب کی ٹیم کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تاہم کچھ دیر بعد سابق وزیر اعظم نے نیب ٹیم کے ساتھ جانے پر رضا مندی ظاہر کر دی۔

نجی ٹی وی کے مطابق نواز شریف نے سزا کے بعد کہا کہ ہم تو پتھر کے لوگ ہیں یہ دکھ سہہ لیں گے ۔ کمرہ عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے چند اشعار پڑھے اور کہا کہ ”میں بھی ایک انسان ہوں کوئی پھر تو نہیں ، ہم تو ہیں پتھر کے انساں ہم تو یہ دکھ بھی سہہ گئے ، جائیں تو جائیں کہاں، مجھے گا کون یہاں ؟ اے میرے دل کہیں اور چال ڈھونڈنے اب کوئی اور نیا گھر۔

انہوں نے کہا کہ بیگم کلثوم کی وفات پر اب تک مریم اور میری والدہ صدمے میں ہیں ، بیٹی مریم بھی آج فیصلہ سنے کیلئے میرے ساتھ عدالت آنا چاہتی تھیں لیکن میں نے خود انہیں منع کیا ، وہ آئیں گی تو پریشان ہوں گی، مریم کو کہا کہ آپ دادی کے ساتھ رہیں، وہ اس عمر میں روتی ہیں تو میرا دل روتا ہے، حوصلہ دینے والا الہ ہے اور ہم نے اس مشکل وقت میں حوصلہ نہیں چھوڑنا بلکہ صبر کرنا ہے ،

سب صحافیوں کا اور میڈیا کا شکر گزار ہوں ۔ عدالتی فیصلے سے قبل لیگی رہنماؤں سے ملاقات کے موقع پر نواز شریف نے کہا کہ مجھے کسی قسم کا خوف نہیں، ایمانداری سے ملک اور عوام کی خدمت کی، کر پشن اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی نہیں کیا، کوئی غلط کام نہیں کیا جس پر سر جھکاناپڑے ،

اللہ سے پوری امید ہے کہ مجھے انصاف ملے گا ، حو صلہ اللہ دیتا ہے، حوصلہ نہیں چھوڑنا چاہیے، عزم اتنا بلند اور مضبوط ہو تو حو صلہ کیوں چھوڑیں۔ نواز شریف نے اتوار کی رات اسلام آباد کے فارم ہاؤس پر گزاری، پیر کی مسیح حمزہ شہباز ، محمد زبیر پرویز رشید اور ان کے وکیل خواجہ حارث بھی فارم ہاوس بن گئے اور نواز شریف کے ساتھ مشاورت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں