22

وزیر اعظم کے زبانی حکم پر آئی جی کا تبادلہ معطل؟ چیف جسٹس

کیا یہ نیا پاکستان بنارہے ہیں ؟ داروں کو کمزور اور دلیل نہیں ہونے دینگے : جسٹس ثاقب نثار ،


سیکر ٹری اسٹیبلشمنٹ کی سرزنش، از خود نوٹس پر حکومت سے کل تک جواب طلب سیکرٹری داخلہ تبادلے سے لاعلم ، آئی جی نے 22 گھنٹے تک میرا فون نہیں سنا کر وزیراعظم کو مینج کا اعظم سواتی، پولیس نے گرفتار ملزموں میں سے 12 سالہ بچے کو رہا کر دیا  سپر یم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد جان محمد کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کر تے ہوئے انہیں کام جاری رکھنے کا حکم دیا ہے اور وفاقی حکومت سے بدھ تک جواب طلب کر لیا۔اٹارنی جنرل نے آئی جی کی تبدیلی کی سمری عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کے زبانی احکامات پر تبادلہ کیا گیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی نے آئی بھی اسلام آباد کے تبادلے کیخلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ تبادلے کی اصل وجہ کیا ہے ، سیکر ٹری اسٹیبلشمنٹ خود عدالت کو حقائق بتائیں۔ سیکر ٹری اس ٹیب ارث منش عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو چیف جسٹس کے سوال پر ان کی سانس پھول گئی،

چیف جسٹس نے کہا آرام سے سانس لے لیں عدالت کی طرف سے آپ کو کافی ٹف ٹائم ملنے والا ہے۔ سیکر ٹری اسٹیبلشمنٹ نے بتایا کہ وزیراعظم آفس آئی ہی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھا۔ آئی بی کے تبادلے کا معاملہ دو ہفتوں سے چل رہا تھا۔

انہیں اتوار کی رات گئے وزیراعظم کی طرف سے زبانی احکامات ملے تھے کہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کا تبادلہ کر کے انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی جائے۔ چیف جسٹس نے سیکر ٹری اسٹیبلشمنٹ کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کیا آپ کو کھلا اختیار ہے جو چاہیں کریں ؟ کیا یہ نیا پاکستان آپ بنارہے ہیں؟ حکومت کی من مرضی سے افسران کے تبادلے نہیں ہو سکتے پاکستان قانون کے مطابق چلنا ہے ،

زبردستی کے احکامات نہیں چلیں گئے ۔ کیوں نہ آپ کا بھی تبادلہ کر دیا جائے۔ ایک وزیر کی شکایات پر آئی ہی تبد میں کیا گیا، آئی جی کی تبدیلی وزارت داخلہ کا کام تھا، کیا ذاتی خواہشات سے تبادلے ہوتے ہیں، کیا حکومت اس طرح افسران کے تبادلے کرتی ہے، عثمان بزدار والا کیس دہرایا جارہا ہے۔

وزیر اعظم کو زبانی حکم دینے کی کیا جلدی تھی، کیا حکومت زبانی احکامات پر چل رہی ہے ، پاکستان اس طرح نہیں چلے گا، جس کا جو دل کرے اپنی مرضی چلائے ، ایسا نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا سیاسی وجوہات پر آئی بی جیسے افسر کو عہدے سے ہٹادیا گیا ریاستی اداروں کو اس طرح کمزور اور ذلیل نہیں ہونے دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا اگر وہ عہدے کے لیے نابل تھے تو پھر انھیں آئی بی کے عہدے پر کیوں تعینات کیا گیا؟ یہ ہے وہ نیا پاکستان جس کے دعوے موجودہ حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے کر رہی تھی ۔ ملک کسی کی مرضی سے نہیں قانون کی حکمرانی کے مطابق چلے گا۔ سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کے بارے میں انھیں علم نہیں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کیسے افسر ہیں کہ آپ کے ایک ماتحت کو ٹرانسفر کر دیا گیا اور آپ کو اس بارے میں علم ہی نہیں ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ حکومت آخر پولیس کیساتھ کیا کر رہی ہے، کیا غیر قانونی حکم نہ ماننے والے گھر جائیں گے۔ آپ ریاست کے ملازم ہیں کسی حکومت کے ہیں۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا غلطی کی تھی تو شو کاز کیوں نہیں دیا۔

سپریم کورٹ نے آئی بی اسلام آباد کا تبادلہ روکتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا، جب کہ معاملے پر وفاقی حکومت سے بدھ تک جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ تبادلے کا حکم قانون کے مطابق نہیں کیونکہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کا تبادلے میں کوئی کردار نہیں بنتا۔

جبکہ جائزہ لیا جائے گا تبادلہ بد نیتی پر بھی تو نہیں۔ چیف جسٹس نے سیکر ٹری اسٹیبلشمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ وزیر اعظم سے ہدایت لیکر جواب داخل کرائیں ۔ عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اعجاز منیر اور سیکرٹری داخلہ اعظم سلیمان کو حکم دیا ہے کہ وہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ کے تبادلے سے متعلق بیان حلفی عدالت میں جمع کروائیں اور عدالت اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے سکتی ہے۔

عدالت نے بیورو کر نیکی سے کہا ہے کہ وہ کسی کا بھی غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کر دے۔ قبل ازیں چیف جسٹس نے آئی سی کے تبادلے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کہا ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ کسی وزیر کی سفارش پر آئی بی کا تبادلہ کیا گیا، ہم اداروں کو کمزور نہیں ہونے دیں گے اور پولیس میں سیاسی مداخلت بھی برداشت نہیں کریں گے ، قانون کی حکمرانی قائم ہو گی ۔

علاوہ ازیں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی کے بیٹے کی جانب سے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج کروائے گئے مقدمے کے نتیجے میں گرفتار 12 سالہ بچے ضیاء الدین کو پولیس نے رہا کر دیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ضیاء الدین نے بتایا کہ وہ جمعہ کی نماز پڑھنے گیا ہوا تھا کہ ان کی گائے فارم ہاؤس میں چلی گئی جہاں کے ملازمین نے اسے وہیں باندھ دیا۔ جب اس نے گائے واپس کرنے کا مطالبہ کیا تو ملازمین نے کہا کہ خان نے گانے باندھی ہے،

اسی سے واپس لو۔ پے کے مطابق ہم اپنی گائے کھول کر واپس آئے تو یہ لوگ ڈنڈے لے کر ہمارے گھر آگئے اور انہوں نے میری ماں اور بہن کو مارا پیا اور بعد ازاں تھانہ شهرزاد ٹاؤن میں ہمارے خلاف درخواست دیدی ۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے پولیس کی استدعا پر باقی ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔

علاوہ ازیں باجوڑ سے تعلق رکھنے والے بیسیوں مظاہرین نے اعظم سواتی کیخلاف نیشنل پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا اور چیف جسٹس سے متاثرہ خاندان کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب وفاقی وزیراعظم سواتی نے ایک پیر سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کرونگا، امید ہے چیف جسٹس کو اپنا موقف سمجھانے میں کامیاب ہو جاؤنگا،

میں نے کوئی خلاف قانون کام نہیں کیا ، میرے گھر پر حملہ کر کے ملازمین کو زخمی کیا گیا، ایک عام شہری کی حیثیت سے آئی جی اسلام آباد سے رابطے کی کوشش کی ، آئی جی اسلام آباد نے 22 گھنٹے تک میرا فون نہیں سنا، تنگ آکر معاملہ وزیر اعظم اور سیکرٹری داخلہ کے نوٹس میں لایا،

کیا عام شہری کی حیثیت سے تحفظ کا مطالبہ کر نامیراحت نہیں۔ اعظم سواتی نے کہا کہ کوشش کے باوجود سیکر ٹری داخلہ کا بھی آئی جی اسلام آباد سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا۔ پھر میں نے وزیر اعظم کو موبائل پر تج کیا۔ ملزموں نے میری زندگی اور فیملی کو دھمکیاں دیں اور چوکیدار کو کہا کہ آپ کو اور آپ کے خان کو بم رکھ کر اڑا دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں