38

جو کام عدالت شروع کرے وہی حکومت شروع کر دیتی ہے: چیف جسٹس

  چیف جسٹس اسلام آباد (خصوصی خبر نگار مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی تو چلتی ہیں عدالت کے پیچھے پیچھے ہے.جو کام ہم کرتے ہیں وہی حکومت شروع کر لیتی ہے۔


chief justice remarks about government

قبضہ مافیا کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ کل قبضہ گروپوں کے خاتھے کی بات کی تو آج وزیر اعلی پنجاب نے بھی قبضہ گروپوں کیخلاف بیان دیا ہے ۔

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی کرامت کھوکھر اور ندیم عباس پار کی تھر میری معافی قبول کر تے ہو ئے توہین عدالت کی کارروائی کا فیصلہ واپس لے لیا اور ان کا معاملہ پی ٹی آئی کی ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیا اور ہدایت کی کہ کمیٹی اختیارات کے ناجائز استعمال کا جائزہ لے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس د یئے کہ اب ہمیں صاف ستھری حکومتیں چاہئیں ۔ کیا پولیس نشا م کے نام کے ساتھ لگے ہم سے تو نہیں ڈر گئی ؟ منشا بم کو گرفتار کر کے تمام جائیداد واگزار کرائی جائے۔ قانون سازوں کا احترام کرتے ہیں، سب کو قانون کی حکمرانی کی عادت ڈالنا ہوگی،

چیف جسٹس نے کر امت کھوکھر اور ندیم عباس سے کہا اب آپ رکن اسمبلی ہیں ، بد معاشی بند کر دیں، کیا رکن اسمبلی کو زیب دیتا ہے کلاشنکوف لیکر چھرے؟ جب رکن اسمبلی کہیں گے ڈی آئی جی ساڈے بندے چھنڈ “ تو کیا تاثر جائے گا ؟ آپ قوم کے رہنما ہیں، کلاشنکوف اٹھاکر شر شر ٹرٹر کرنا چھوڑ دیں،

کرامت کھوکھر نے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہان شام جباری برادری کا ہے ،اسے چھڑواکر بہت غلطی کی، عدالت معاف کر دے ۔ ندیم عباس بارا نے کہا غلطی سے عدالت آگیا تھا، عدالت معاف کر دے، چیف جسٹس کا کہنا تھا پی ٹی آئی تو چلتی ہی عدالت کے پیچھے پیچھے ہے

یہ خبر بھی پڑھے: سرکاری سکول ٹیچر نے تشدد سے طالبعلم کا سر پھاڑ دیا

جو کام ہم کرتے ہیں وہی حکومت پکڑ لیتی ہے، کل قبضہ گروپوں کے خاتھے کی بات کی تو آج وزیراعلی پنجاب نے بھی قبضہ گروپوں کیخلاف بیان دیا ہے، پولیس حکام نے بتایا منشا بم ایک مافیا ہے جو ناسور بن چکا۔ گزشتہ حکومت میں ن لیگ کے ایم این اے منشا یم کو سپورٹ کر رہے تھے اور اب پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ، منشا بم ملک کرامت کا رشتہ دار ہے ،

وہ چاہیں تو اسکو گرفتار کیا جا سکتا ہے، چھاپے مارے ہیں مگر گرفتار نہیں کر سکے ، عدالت نے منشاء بیم اور اسکے چار بیٹیوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے، شام کی فوری گرفتاری اور منشا بم اور دیگر گروپوں کے قبضہ میں تمام اراضی واگزار کر کے اصل مالکان کے حوالے کر نے کا حکم دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ علاوہ ازیں سپر یم کورٹ نے بنی گالا میں نالہ کورنگ کے اطراف ناجائز تعمیرات گرانے کا حکم دیدیا ،

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم عمران خان سب سے پہلے جرمانہ دے کر اپنا بنی گالہ گھر میگولر کرائیں اور پھر دوسروں کے گھر بھی ریگولر کرائیں ، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کیس کا آغاز بنی گالہ تعمیرات پر عمران خان کے خط سے ہوا، بعد میں کورنگ نالہ کی تعمیرات بھی کیس میں شامل ہو گئیں ،

اب رپورٹ آچکی ہے، جن لوگوں نے نالے کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے اسے خالی حکومت نے کرانا ہے، بوٹ بینکل گارڈن کے گرو دیوار بنانے کا بھی مسئلہ ہے، عمران خان اس وقت وزیراعظم ہیں انہی کے خط پر عدالت نے نوٹس لیا تھا جس پر معلوم ہوا بنی گالہ میں تجاوزات کی بھر مار ہے ،

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سروے آف پاکستان نے کورنگ نالہ کا 21 کلو میٹر سروے کیا جس کے مطابق 613 کنال اراضی پر اوگوں نے تعمیرات کر رکھی ہیں، عدالت حکم دے تو تجاوزات کا خاتمہ کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بنی گالا کا گندہ پانی راول ڈیم میں جارہا ہے ، وزیراعظم اپنا گھر بھی ریگولر کریں اور دوسروں کے بھی کرائیں،

جو قانونی جرمانہ عائد ہو تا ہے وہ ادا کیا جائے ، نالہ کورنگ کے ارد گر د تجاوزات کو فوری ختم کیا جائے ، عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے بتایا کہ وزیر اعظم بنی گالہ کے حوالے سے تین اجلاس منعقد کر چکے ہیں، عدالت نے حکومت کو بنی گالا کے حوالے سے فیصلہ کر کے جمعہ تک آگاہ کر نے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ رواں ہفتے حکم جاری کر کے کیس نمٹا دیں گے ۔

ایک پر میں نیوز کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سب سے پہلے اپنا گھر قانون کے دھارے میں لائیں ، سب سے پہلا جرمانہ بھی انہی کو ادا کرنا ہو گا ، تجاوزات ختم کس نے کر تی ہیں؟ بنی گالہ کے حوالے سے جو کرنا ہے ، حکومت فیصلہ کرے۔ عمران خان بطور درخواست گزار عدالت آئے، آج وزیر اعظم ہیں ،انھوں نے بنی گالہ تعمیرات کے حوالے سے کیا اقدامات کیے ؟ عمران خان کے اپنے گھر کے این او سی کا بھی متنازع تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں