22

سرکاری سکول ٹیچر نے تشدد سے طالبعلم کا سر پھاڑ دیا

سرکاری سکول ٹیچر نے تشدد سے طالبعلم کا سر پھاڑ دیا ٹیچر نے سر پھاڑنے کے بعد کپڑے دھو کر بچے کو سارا معاملہ والدین کو نہ بتانے پر زور دیا،


School-teacher-tortured

والد محمد ہاشم سی ای او ایجوکیشن نے ایس ایس ٹیچر سمیرا فاطمہ کو معطل کر دیا، ڈی سی نے دونوں پارٹیوں کو طلب کر لیا لاہور (پیشل رپورٹر، نامہ نگار خصوصی، نمائندہ خصوصی) صوبائی دارالحکومت میں سرکاری سکول کی ٹیچر نے تشدد کر کے بچے کا سر پھاڑ دیا ،

والد کی اعلی حکام سے مزکورہ ٹیچر کے خلاف ایکشن لینے کی درخواست ۔ تفصیلات کے مطابق ریٹی گن روڈ پر واقع سرکاری سکول میں ٹیچر نے چوتھی جماعت کے طالبعلم علی حیدر پر تشدد کیا جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ بچے کے والد محمد ہاشم نے بتایا کہ ٹیچر نے سر پھاڑنے کے بعد اس کے کپڑ ے د سعود سیئے اوربچے کو سارا معاملہ والدین کو نہ بتانے پر زور دیا۔

سی ای او ایجوکیشن نے ایس ایس ٹیچر سمیر اقفاطمہ کو معطل کر دیا ڈی سی نے دونوں پارٹیوں کو طلب کر لیا۔ ڈی سی لاہور کیپٹن (ر) انوار الحق نے سنٹرل ماڈل سکول میں ٹیچر کے طالب علم پر تشدد کی خبر کا نوٹس لے لیا ہے۔

ڈی سی لاہور نے سی ای او ایجوکیشن سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ ڈی سی لاہور نے اے ڈی سی بی لا ہور توقیر حیدر کاشمی کو معاملہ کی انکوائری کر نے کی ہدایت کی ہے۔ سی ای او ایجوکیشن نے طالب علم پر تشدد کرنے پر ایس ایس پی میچز سمیر فاطمہ کو معطل کر دیا ہے۔

واقعہ کی انکوائری رات ایک مکمل کر لی جائے گی ۔ اے ڈی سی کی لاہور توقیر حیدر کاظمی نے دونوں پارٹیوں کو کل من10 بجے طلب کر لیا ہے۔ ڈی سی لاہور کیپٹن (ر) انوارالحق نے سنٹرل ماڈل سکول میں ٹیچر کے طالب علم پر تشدد کی خبر کانوٹس لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں