15

لالچ لے ڈوبی: ایک اور کرکٹر بد عنوانی کی بھینٹ چڑھ گیا

پی سی بی ٹریبیونل نے پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس کے آخری ملزم ناصر جمشید پر 10 سال کی پابندی لگادی،


Asad-omer-replied-to-america

کرکٹ کے انتظامی امور میں کبھی عہدہ نہیں پا سکیں گے او پر پر میچ فکسنگ ، بکیز کی پیشکش قبول کرنے ، کر پشن کی یقین دہانی کرانے کھلاڑیوں کو کسی نے بھی کی جانب سے رابطے کی رپورٹ نہ کرنے کے الزامات ثابت ناصر ماسٹر مائنڈ قرار پائے ، نام مشکوک افراد کی فہرست میں ڈال دیا جائے گا، بر طانیہ میں بھی تحقیقات جاری ہیں،

یوسف کو بھی ثابت کر تکرائم ایجنسیز کا کام ہے، تفضل لاہور (اسپورٹس رپورٹر ) لان لے ڈوبی ، ایک اور کرکٹر بد عنوانی کی بھینٹ چڑھ گیا پی سی بی ٹریبیونل نے پی لیں ای اسپاٹ فکسنگ کیس کے آخری ملزم ناصر جمشید پر 10 سال کی پابندی عائد کر دی، وہ ستر الپوری ہونے کے بعد بھی کرکٹ کے انتظامی امور میں کوئی عہدہ نہیں حاصل کر سکیں گے،

انھیں امینی کر پشن کوڈ کی 5 شقوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا، ان پر میچ فکسنگ ، بکیز کی پیشکش قبول کرنے اور کر پشن کی یقین دہانی کرانے ، کھلاڑیوں کو اکسانے اور بلیز کی جانب سے رابطے کی رپورٹ نہ کرنے کے الزامات ثابت ہو گئے۔ پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے کہا ہے کہ ناصر جمشید ماسٹر مائنڈ ثابت ہوئے،

ان کا نام مشکوک افراد کی فہرست میں ڈال دیا جائے گا، نوجوان کرکٹرز کو پیپرز میں ان سے دور رہنے کی ہدایت دی جائے گی ، یوسف کو بھی ثابت کر تاپی سی بی کی ذمہ داری نہیں بلکہ کرائم ایجنسیز کا کام ہے ، بر طانیہ میں بھی اوپر کیخلاف تحقیقات جاری ہیں،

ہم اس کی تفصیلات نہیں بتا سکتے ۔ تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل ٹو کے آغاز میں ہی سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے دوران ناصر جمشید کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے گرفتار کر نے کے بعد منہانت پر رہا کر دیا ، اس کی تحقیقات کا بھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا،

فکسنگ کیس میں خالد لطیف، شرجیل خان اور شاہ زیب حسن سزا کو سزائیں سنائی جا چکیں، محمد عرفان کو بھی 6ماہ کیلئے معطل کیا گیا تھا، سزا پوری کر نے کے بعد طویں تقامت پیسر کی کرکٹ کے میدانوں میں ایسی بھی ہو چکی ، اسکینڈل سامنے آنے پر اس وقت کے چیئر مین پی سی بی شہریار خان
نے دعوی کیا تھا کہ ناصر جمشید کے انگلش بکیز سے روابط ہیں ،

اوپنر نے ہی 2 مرکزی کرداروں خالد لطیف اور شرجیل خان کا کسی سے رابطہ کرایا تھا، بعد ازاں اینٹی کرپشن ٹربیونل میں شامل سابق چیئر مین پی سی بی لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا نے بھی دیگر کرکٹرز کے کیسز کی سماعت کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنا پر ناصر جمشید کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا ، لندن میں موجود او پیر سے بار بار رابطہ کر نے کی کوشش کی گئی ،

یہ خبر بھی پڑھے: آفریدی بھارت کے ساتھ تسلسل سے میچز کے خواہشمند

اینٹی کرپشن یونٹ کے نمائندے بھی بیان لینے کیلئے گئے لیکن ناکام رہے ، ٹریبیونل نے پہلے عدم تعاون کے کیس کھولا اور سماعت مکمل ہونے کے بعد ناصر جمشید کو ایک سال کی سزا سنائی گئی تھی ، اس کی مدت رواں برس فروری میں ختم ہو گی، ودیگر کرکٹرز کے کیسز کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ناصر جمشید کو فکسنگ الزامات میں چارج شیٹ جاری کی گئی تھی،

اس کیس میں پی سی کی اور او پیر کے وکلا نے اپنے دلائل دیے ، لندن میں موجود ناصر جمشید کا بیان بھی ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا، حتی دلائل مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ 6 اگست کو محفوظ کیا گیا تھاجو گذشتہ روز سنادیا گیا ناصر جمشید پر 10 سال کی پابندی عائد کی گئی ہے ،

سزا پوری کر نے کے بعد بھی او پنیر پی سانی سمیت کر کٹ کے انتظامی امور میں کبھی کوئی عہدہ نہیں حاصل کر سکیں گے ۔ فیصلے کے مطابق ناصر جمشید کو اینٹی کرپشن کوڈ کی 5 شقوں کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا، ان پر میچ فکسنگ ، بکیز کی پیشکش قبول کرنے اور کر پشن کی یقین دہانی کرانے کا جرم بھی ثابت ہوا،

وہ کھلاڑیوں کو اکسانے اور بکیز کی جانب سے رابطے کی رپورٹ نہ کرنے کے بھی قصور مظہرائے گئے۔ فیصلہ سامنے آنے کے بعد نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے کہا کہ ناصر ہی وہ شخص ہیں جو دیگر کرکٹرز کو فکسنگ کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے رہے ،

ان کیخلاف اسپاٹ فکسنگ کیس جیتنے پر خوشی نہیں دکھ ہوا افسوس ہے کہ ایک اور کر کٹڑ کر پشن کی وجہ سے ضائع ہو گیا، پی سی بی کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات درست ثابت ہوئے، کوڈ آف کنڈکٹ کی چند شقوں کے تحت 10 سال جبکہ چند میں ایک سالہ پابندی کی سزا بنتی ہے ، تمام سزائیں ساتھ ساتھ چلیں گی ،

اگر 10 سال بعد وہ بحالی پروگرام میں شرکت کر کے واپس بھی آگئے نوکر کٹ یا اس کے کسی بھی طرح کے انتظامی معاملات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا، انھیں کھیل سے دور ہی رکھا جائے گا۔ تفشل رضوی نے مزید بتایا کہ نوجوانوں کو فکسنگ سے آگاہی کیلیے دیے جانے والے پیپرز میں کھلاڑیوں کو جن مشکوک افراد سے دور رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے ،

ان کی فہرست میں ناصر جمشید کا نام بھی شامل کر دیا جائے گا۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ ناصر جمشید نے ہی کھلاڑیوں کو فکسنگ پر اکسایا تا، البتہ یو سف کو بی ثابت کرنا پی سی بی کی ذمہ داری نہیں ، یہ کام کرائم ایجنسیز کا کام ہے، جو بھی شخص آپ کو فکسنگ کی آفر کر کے قانونی طور پر اس کے بارے میں بورڈ کو مطلع کرنا ضروری ہوتا ہے۔

تفضل رضوی نے کہا کہ بر طانوی کرائم ایجنسی کے نمائندوں نے ٹریبیونل کو بتایا کہ وہاں ناصر جمشید کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور وہ ضمانت پر رہا ہیں ، اس لیے کیس کی تفصیلات شیئر نہیں کر سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں