34

سپریم کورٹ کے حکم پر حمزہ شہباز کے خلاف 7 سال بعد مقدمہ درج

سابق آئی جی رانامقبول و دیگر ملزم بھی شامل

سابق آئی جی رانامقبول و دیگر ملزم بھی شامل عائش کوتحفظ دینے کا حکم کیس کا ریکارڈ6 جون کو طلب اندراج مقدمہ کیلئے مہلت سے انکار عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کر سکتے تو چھٹی پر چلے جائیں:
آئی جی کی سرزنش حمزہ شہباز آ ئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب
لاہور (مانیٹرنگ ڈیک نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ کے حکم پر عائشہ احد تشد دکیس میں سات سال بعد لاہور پولیس نے حمزہ شہباز کیخلاف مقدمہ درج کرلیا،
سابق آئی جی سندھ رانا مقبول اور 5 دیگر ملزموں کو نامزد کر دیا گیا چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب کی مہلت کی استدعا مسترد
کر دی عائشہ احد کوتحفظ فراہم کرنے کا حکم دیدیا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عائشہ احد پر تشدد سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے استفسار کیا کہ سیشن کورٹ نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟
اس خبرکوبھی پڑھیں: اصغر خان کيس نواز شريف ہاشمی سميت 21 سويلين 6 جون کو طلب

چیک کریں کیا سیشن کورٹ کا آرڈر ہائیکورٹ نے معطل کیا ہے؟ سیشن کورٹ کا حکم معطل نہیں ہوا تو آج ہی درخواست کے مطابق مقدمہ درج کریں عدالت نے عائشہ احد
کیخلاف کارروائی کا ریکارڈ بھی 6 جون تک پیش کرنے کا حکم دیدیا، عدالت نے کہا ہے کہ آگاہ کیا جائے آج تک مقدمہ درج نہ کرنے والے
اپلیس اہلکاروں میں کون کون شامل ہیں ۔ ہفتہ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دوری نے حمزہ شہباز کی بیوی ہونے کی دعویدار عائشہ احد کو دھمکیاں ملنے کے معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عائشہ احد، سابق وزیر خواجہ سلمان رفیق اور آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان پیش ہوئے۔ عائشہ احد نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے اور اس کی بیٹی کو مزہ شہباز سے جان کا خطرہ ہے۔
چیف جسٹس نے حمزہ شہباز کو طلب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جزل پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ شہباز شریف کو فون کر کے حمزہ شہباز کی پیشی کویینی بنائیں کسی کی جان خطرہ میں نہیں دیکھ سکتے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئی جی صاحب میرے علم پرگھبرا کیوں جاتے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کمرہ عدالت میں موجود خواجہ سلمان رفیق سے استفسار کیا کہ بتائیں حمزہ شہباز کہاں ہے۔ خواجہ سلمان نے بتایا کہ ان کے علم میں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سارا دن حمزہ کے ساتھ گھومتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پتے ہیں ۔ حمزہ شہباز جہاں کہیں بھی ہوں پیش ہوں ۔
بعدازاں عدالت نے حمزہ شہاز کوفوری طلب کیا تاہم اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عاصمہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز بیرون ملک ہیں اور 3 سے 4 روز میں پاکستان آ جائیں گے۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کوعلم دیا کہ عائشہ احد کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عائشہ احد پر تشدد کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے اس نے کیس کا ریکارڈ6 جون تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ اس پر عائشہ احد نے بتایا کہ مجھ پر تشدد سے متعلق درخواست میں حمزہ شہباز، رانا مقبول مقصود بٹ ، را تاعلی عمران اور دیگر کوفریق بنایا گیا ہے۔
عائشہ احد کے موقف کے بعد چیف جسٹس نے حکم دیا کہ درخواست میں نامزد ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے اور عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ آج تک مقدمہ درج نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں میں کون کون شامل ہے۔ بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر مزہ شہباز کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 29جون تک ملتوی کر دی۔ بعدازاں رات گئے حمزہ شہباز سمیت تمام نامزد ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
اس سے قبل چیف جسٹس ثاقب شارنے آئی جی پنجاب کی مہلت کی استدعا مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے سابق وزیراعلی پنجاب کے صاحبزادے
اور تمام ملزمان کے خلاف رات بارہ بجے تک مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے آئی جی سے کہا سات سال سے قانونی تقاضے پورے نہیں کر سکے اگر عدالتی احکامات پرعملدرآمد نہیں کر سکتے تو چھٹی پر
چلے جائیں۔
عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے پنجاب پولیس نے لاہور کے تھانہ اسلام پورہ میں مقدمہ درج کیا۔ مقدمے میں عائشہ احد پرتشد دیس میں حمزہ شہباز ، رانا مقبول اور صحافی مقصود بٹ کو نامزد کیا گیا، جبکہ ایف آئی آر کی کاپی عائشہ احد کے حوالے کر دی گئی۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ میرے خلاف من
گھڑت مقدمہ درج کیا گیا ہے نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق چار جون کو وطن واپس آ کر ثابت کرونگا کہ میرے خلاف الزامات درست نہیں ہیں ۔ ثابت کرونگا کہ میرا تمام معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔
اس خبرکوبھی پڑھیں: پولیس نے عائشہ احد کی شکایت پر حمزه شہباز کے خلاف مقدمہ درج کیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں