88

اس قتل عام کے ذمہ دار ہم بھی ہیں!

فروری 2018ء تک قابض ہندوستانی فوج کے ہاتھوں 95000 بے گناہ کشمیری مسلمان شہید ہوئے۔ فوٹو: انٹرنیٹ


مشرق سے لے کر مغرب تک، شمال سے لے کر جنوب تک، اس وقت دنیا کی مظلوم ترین قوم مسلمان ہے؛ یا یوں کہیں کہ مظلوم بنی ہوئی ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ ایک وہ وقت بھی تھا جب پوری دنیا پر راج کرنے والے مسلمان ہوا کرتے تھے، ہر طرف امن و سکون تھا، مسلمان تو مسلمان‘ غیر مسلم بھی محفوظ تھے۔ لیکن آج دنیا میں سب سے زیادہ غیر محفوظ قوم مسلمان ہی ہیں۔ ہر طرف بکھری ہوئی لاشیں مسلمانوں کی ہی نظر آئینگی۔ شام کی صورتحال پر روئیں یا برما کے، فلسطین کو جلتا دیکھیں یا چیچنیا کو، کشمیر پر ماتم کریںں یا افغانستان پر… مجھے اس وقت دنیا کا کوئی خطہ ایسا نظر نہیں آ رہا جہاں پر مسلمان محفوظ ہو۔ کہیں پر اپنے ہی دشمن بنے ہوئے ہیں تو کہیں پر غیروں نے جینا حرام کیا ہوا ہے۔

گزشتہ روز کشمیر میں ہندوستانی قابض فوج نے بے گناہ کشمیری مظاہرین پر فائرنگ شروع کردی، ایک ہی روز میں دو مختلف واقعات پیش آئے اور سترہ (17) بے گناہ مسلمان شہید ہوگئے۔ جس کے ایک دن بعد افغانستان کے صوبے قندوز میں ایک مدرسے میں جہاں پر ختم القرآن کی تقرب چل رہی تھی، نوعمر معصوم بچو ں کی دستار بندی ہونی تھی کہ اچانک امریکی جیٹ طیاروں نے وحشیانہ بمباری شروع کردی، جس کے نتیجے میں ڈیڑھ سو (150) سے زائد بے گناہ مسلمان شہید ہوگئے جن میں اکثریت چھوٹے بچوں کی تھی۔ دنوں سانحات میں زخمیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق 1989ء سے لے کر فروری 2018ء تک قابض ہندوستانی فوج کے ہاتھوں 95000 بے گناہ کشمیری مسلمان شہید ہوئے۔ اس کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں 7000 ایسی گمنام قبریں بھی دریافت کی گئی ہیں، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ بے گناہ نوجوان جو کئی برسوں سے غائب ہیں، یہ ان کی ہی قبریں ہوں۔ قابض ہندوستانی فوج نے جیلوں میں قید بے گناہ کشمیروں پر بھی ظلم و تشدد کی انتہا کی ہوئی ہے، جس سے بڑی تعداد میں قیدی معذور اور شہید ہوئے ہیں۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں ان شہدا کی تعداد 7000 سے بھی زیادہ بتائی گئی ہے۔

اسی طرح افغانستان میں بھی قابض امریکی فوج کے ہاتھوں گزشتہ سولہ سال میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد بے گناہ افغانی مسلمان شہید ہوئے اور اس سے کئی گناہ زیادہ زخمی بھی ہوئے، جن میں زیادہ تر اپاہج ہوچکے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تمام قتل عام پر دنیا خاموش تماشائی کی صورت چپ سادھے ہوئے ہے۔ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر تو پاکستان کی حکومت چلاتی بھی ہے، مگر افغانستان سمیت دیگر ملکوں میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر پاکستان کو اور پورے عالم اسلام کو جیسے سانپ سونگھ جاتا ہے۔
افغانستان ہو یا کشمیر، شام ہو یا برما، فلسطین ہو یا دنیا کا کوئی بھی خطہ جہاں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے، ان مظالم کی جتنی ذمہ داری دشمنان اسلام کی ہے، اس سے کہیں زیادہ ذمہ دار خود مسلمان اور ان کے حکمران ہیں۔ اگر یہ درست ہوجائیں اور ایک دوسرے کے درد و تکلیف میں ساتھ دیں تو کیا مجال کسی دشمن کا کہ وہ مسلمانوں کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھ سکے۔
گزشتہ دنوں پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی صاحب کے ساتھ امریکی ائرپورٹ پر جو واقعہ پیش آیا، وہ انتہائی قابل مذمت ہے، مگر اس میں ان کی اور ان کی حکومت کی غلطی بھی شامل ہے۔
برازیل کے ایک سینیٹر نے اپنے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا جس میں کہا کہ امریکا جانے والے برازیلین کی ائرپورٹ میں شدید توہین کی جاتی ہے، ان کو تلاشی کے بہانے برہنہ کیا جاتا ہے، اس پر برازیل حکومت نے ایک قانون پاس کیا، جس کے بعد کوئی بھی امریکی اگر برازیل آتا تو اس کو اسی قسم کی چیکنگ سے گزرنا پڑتا، جس سے امریکا میں برازیلین کو گزارا جاتا تھا۔ یہ دیکھ کر امریکا نے احتجاج کیا اور دھمکی بھی دی، مگر برازیلی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی، جس کے بعد امریکا کو برازیل کی حکومت سے معافی بھی مانگنی پڑی اور برازیل کے شہریوں کے لئے تلاشی کا عمل بھی نرم کرنا پڑا۔
قارئین کرام! درجہ بالا واقعات لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہی ہے کہ اگر ہماری حکومت امریکی سرکار کی چاپلوسیاں ختم کرے تو ایسی ذلالت سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ برازیل جیسے ملک نے امریکا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تو عالم اسلام جس کے 56 ممالک ہیں، ایک سو پچیس کروڑ آبادی ہے، پچاس لاکھ سے زائد افواج ہیں اور ایٹمی طاقت بھی ہے، وہ کیوں ان کفار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔
بات یہ ہے کہ آج ہر شخص دولت کی حوس میں مبتلا ہو چکا ہے۔ چاہے وہ حکمران ہو یا عوام، سب کو صرف دولت و دنیا کے عیش آرام نے جکڑا ہوا ہے۔ ہرشخص اس سوچ میں ہے کہ میں محفوظ ہو جاؤں، باقی سب کی خیر… ( جیسے کہتے ہیں کہ’’ اپنا کام بنتا، بھاڑ میں جائے جنتا‘‘) مگر ہم سب یہ بھول گئے ہیں کہ ’’ موت‘‘ پھر بھی آنی ہے۔ آج ہم نے اللہ کی رسی کو چھوڑ کر حصولِ دنیا کی دوڑ میں لگ گئے ہیں، جبکہ دنیا نے ہماری طرف پیٹھ کرکے دوسری جانب دوڑ لگادی ہے۔
آج جو افغانستان و کشمیر میں ہوا، یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا، اس سے قبل اس سے بھی زیادہ درناک مناظر دیکھے گئے ہیں، جبکہ اب مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر آنکھیں آنسو بھی نہیں بہاتی کیونکہ آنسو بھی خشک ہوچکے؛ روز روز ایک جیسے سانحات دیکھ کر۔ کبھی فلسطین میں مسلمانوں کا استحصال وہ قتل عام کیا جاتا ہے تو کبھی شام میں فاسفورس بموں سے مسلمانوں کو ہڈیوں سمیت راکھ بنا دیاجاتا ہے، جبکہ برما کی صورتحال بھی سب کے سامنے ہے۔
جس طرح ملالہ پر ہونے والے حملے کو دنیا تعلیم پر حملہ قرار دے رہی تھی، لیکن افغانستان کے طلبا پر ہونے والے حملے میں دو رخی کیوں؟ افغانستان میں ہونے والی بمباریوں سے شہید ہونے والے بچے بھی علم حاصل کرنے گئے تھے، مگر وہ علم دین کے لیے گئے تھے اس لیے سب خاموش ہیں۔
یاد رکھیں! آج مسلمانوں کا جو قتل عام ہو رہا ہے اس میں کسی نہ کسی طرح ہم بھی شامل ہیں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، کہ سکیں یا نہ کہ سکیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ ’’اس قتل عام کے ذمہ دار ہم بھی ہیں۔‘‘
خدائے بزرگ و برتر ہمارے حالات پر رحم فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں