syed zeshaan haider blog 565

اسد عمر کو کیا کرنا چاہیے؟بلاگ سید ذیشان حیدر

اسد عمر کو کیا کرنا چاہیے؟ وزیراعظم عمران خان آئے روز کی معیشت کی زبوں حالی کا حل ڈھونڈنے کے لیے مختلف اجلاس بلوار ہے ہیں۔


پاکستانی معیشت ہے کہ وہ روز بروز گراوٹ کی طرف جارہی ہے۔ حکومت کی جانب سے بھی سعودیہ عرب تو بھی چین سے امداد طلب کی جاتی ہے۔ روز بروز اشیای قیمتیں بڑھتی جارہی اور ڈالر مہنگا ہوتا جارہا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات کے اندر حکومت وقت کیسے اقدامات کر سکتی ہے جس سے پاکستان کی معیشت کی گاڑی چل پڑے ؟ غور سے دیکھا جائے تو پاکستان کے اندر اس وقت مینو فیکچرنگ سیکٹر کا مستقبل دکھائی نہیں دے رہا۔

اس کی بنیادی وجہ ہمارے پاس سستی توانائی کے ذرائع کا نہ ہونا ہے۔ پانی بھی کم ہوتاجارہا ہے جس سے ہماری زراعت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ ایسی صورتحال کے اندر پاکستان کو ایسے اقدامات کرنے چاہیے جس سے زر مبادلہ بھی حاصل ہو ، لوگوں کو آمدن بھی بڑھے اور پاکستان کی معیشت کا پہیہ بھی چل پڑے۔ بھارت میں دیکھیں تو وہاں پر اس وقت حکومت نے کافی عرصہ سے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ کو فوکس کیا ہوا ہے۔

اس وقت بھارت اربوں ڈالر مالیت کے سافٹ وئیر بیرون ملک بر آمد کر رہا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالو بھی ایسا سیکٹر ہے۔ جس کے لیے آپ کو زیادہ خام مال کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سیکٹر میں انسانی سوچ اور آئیڈیاز خام مال ہوتے ہیں۔ کسی بھی چوڑی ہارڈوئیر کی انڈ سٹر کی یا سرمایہ کاری کیے بغیر الی اشیاء بنائی جاسکتی ہیں۔ جن کو باآسانی بیرون ملک بر آمد کیا جا سکے ۔

یہ پاکستان کی کایا پلٹنے کے لیے سب سے بہترین اور شاندار راستہ ہے۔ اگر اس وقت حکومت وقت تمام تر توجہ انفارمیشن ٹیکنالوجی پر دے۔ اس حوالے سے بیرون ملک سے قابل اساتذہ کو پاکستان بلایا جائے پھر انہیں یو نیورسٹیوں کے اندر ٹاسک دیا جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ انفارمیشن ٹیکنالوی کے ماہر اگر بیویٹ تیار کریں ۔

ان اساتذہ ، تعلیمی اداروں اور فارغ التحصیل طلباء کو حکومت کی بھر پور حمایت بھی حاصل ہو۔ اس ہنر مندی کی تعلیم میں طلباء کو فیسوں میں سبسڈی دی جائے تا کہ غریب طلباء اس میدان میں آگے بڑھ سکیں – یہ ایک بہترین طریقہ ہے ہمارے ہنر مند لوگ بیرون ملک جانے بغیر یہاں ڈالر کما سکتے ہیں ۔

ملکی معیشت کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ اس سے نوکریاں مل سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں لوگ سافٹ وئیر ہاؤس اور کال سینٹر کے علاوہ معاشی حساب کتاب کے معاملات آن لائن گھر بیٹھ کر چلا رہے ہیں۔ اگر ان ہنر مندوں کو گھر بیٹھے اچھی آمدن ہو جائے تو اور کیا چاہیے لیکن اس کے لیے انہیں رہنمائی اور تربیت کی ضرورت ہے۔

جس کیلئے حکومتی پالیسی میں واضح تبدیلی درکار ہے۔ پاکستان کا ایک سیکٹر ایسا بھی ہے جو سب سے زیادہ پاکستان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے کہ بیرون ملک موجود پاکستانی در کر کلاس ہے ۔ لیکن اسے سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ اب اگر آپ دیکھیں تو زیادہ تر ممالک کے اندر پاکستانی دور کر کلاس اور ہنر مند لوگوں کو ویزے بھی نہیں ملے۔

اس کی چند وجوہات ہیں ۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ بیرون ملک جب پاکستانی جاتے ہیں تو وہاں غائب ہو جاتے ہیں۔ ان کے پاس وہ ہنر نہیں ہوتا جس کی اس ملک میں ما نگ ہوتی ہے۔ اس لیے بعد میں چند لوگ جرائم کی دنیا میں چلے جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ ممالک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کو خرچہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

جو ان کی معیشت پر بوجھ بن جاتا ہے۔ ان ساری وجوہات کی بنا پر وہ پاکستانیوں کو ویزہ دینے سے کتراتے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں حکومت امیگریشن اور ہنر مندوں کو بیرون ملک لے جانے کا معاملہ اپنے ہاتھوں میں نے اس سے نہ صرف پاکستانی حکومت کو فائدہ ہو گا بلکہ پاکستان کے وہ ہنر مند جو لاکھوں روپے انسانی سمگلروں کو دیکر اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر وہاں جاتے ہیں تو اکثر راستے میں مر جاتے ہیں پھر وہاں جاکر چوروں کی زندگی گزارتے ہیں اور پھر آدھی اجرت پر محنت مزدوری کر نے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ان کی زندگیوں کو ہمیشہ یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ ان کو کسی بھی وقت ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ بیرون ملک کام کر نا چاہتے ہیں ۔ ان کی سر پرستی کی ذمہ داری حکومت لے لے تو حالات میسر تبدیل ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے کرنے کا کام یہ ہے کہ حکومت کو ان ممالک میں جہاں پر ہنر مندوں کی ضرورت ہے اس کی نشاندہی کرنی چاہیے۔

مثال کے طور پر اس وقت جاپان میں آبادی میں بوڑھوں کی تعداد زیادہ ہے نوجوان کم ہیں۔ اس کی وجہ وہاں شادیوں کا کم ہو تا اور زیادہ بچے پیدا نہ کر نے کا رواج ہے۔ اس سے ملتی جلتی صورتحال جر منی کی بھی ہے۔ جو اس وقت دنیای ایک طاقتور معیشت ہے۔ وہاں پر ہنر مندوں کی بڑی ضرورت ہے۔

حکومت ایسے ممالک کو تلاش کر کے ان سے معاہدے کرے۔ ان کی ضرورت کے مطابق اس فیلڈ میں تربیت دیکر ہنر مندوں کو بھی بھیجیں۔ ساتھ یہ بھی یقین دہانی کرائے کہ وہ شخص غائب نہیں ہو گا اور نہ کسی جرم کا مرتکب ہو گا۔ اس کی گارنٹی حکومت دے سکتی ہے۔ حکومت اس شخص کے عزیز واقارب سے گارنٹی لے سکتی ہے ۔

اس سے ہنر مند کے ساتھ پاکستان کو بھی فائدہ ہو گا۔ بہت سارے بیرون ملک مقیم لوگ ہنڈی کے ذریعے پیہ بجھواتے ہیں جس سے پاکستانی حکومت کو نقصان ہو تا ہے ۔ حکومت ان کو بنکوں کیذریعے رقوم بھیجنے کے لیے قائل کرے۔ جو ہنر مند بیرون ملک بہتر کام کریں گے تو ان کو معاوضہ بھی اچھا ملے گا۔ وہ ان پر بوجھ نہیں ہوں گے۔

اس طریقے سے زر مبادلہ بھی بڑھے گا اور بے روزگاری ختم ہو گی۔ حکومت کو ووکیشنل ٹرینگ کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لینا چاہیے۔ حکومت کو اپنی تمام تر توجه و کیشنل ٹرینینگ کی طرف دینی چاہیے۔ جن ممالک کے ساتھ معاہدے ہوں ان کی ضروریات کے مطابق ہنر مندوں کے تربیتی پروگرام شروع کرنے چاہیے۔

اس کا معیار بہتر بنانا چاہیے تا کہ ہمارے ہنر مند بہتر کارکردگی دکھا سکیں ان کی عالمی سطح پر مانگ بڑھ سکے۔ اس کی مثال فلپائن ہے۔ پاکستان کے امیر طبقے کے اندر بچوں کی دیکھ بھال والی مائی کا کام فلپائنی خواتین کر رہی ہیں اور ڈالر میں اجرت لے رہی ہیں ۔ فلپائنی خواتین ایسا کیوں کر رہی ہیں کیونکہ ان ممالک کے اندر بچوں کی دیکھ بھال کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس طرح کے اقدامات پاکستان کی جانب سے بھی کیے۔

جا سکتے ہیں ۔ بے شک ہمارے محنت کش لوگ کسی سے کم نہیں لیکن حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باعث دنیامیں قدر نہیں ۔ یہ لوگ بیرون ملک ٹیکسیاں چلانے پر مجبور ہیں۔ وہاں چھپ چھپ کر کسی غیر کی شخص کے پاس آدھی اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔

ان دو چیزوں پر حکومت توجہ دے تو ہم انفارمیشن ٹیکنالو جی کے میدان میں زر مبادلہ بھی کمایا جا سکتا ہے ، روز گار کے ذرائع پڑھائے جا سکتے ہیں اور ووکیشنل ٹریننگ دے کر ہنر مندوں کو باہر مینی کو پاکستانی معیشت کو کھڑا کیا جا سکتا ہے۔ تیسری سب سے اہم بات کہ حکومت وقت کو پرائیویٹ بنکوں سے پیسے ادھار لینا بند کر دینے چاہیے بلکہ پرائیویٹ بنکوں کو مجبور کر نا چا ہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ چھوٹے کاروباری طبقے کو پیہ فراہم کریں تا کہ پاکستان کی معیشت کا پہیہ چل سکے۔

ان تمام معاملات پر جنگی بنیادوں پر عملدر آمد کرنے سے پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت دوبارہ سے بہتری کی طرف گامزن ہو سکتی ہے بصورت دیگر پاکستان کے معاشی حالات درست ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

اس پوسٹ پر کمینٹ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں