report-about-nawaz-shareef 150

نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی گئی

دل کی ایم آر آئی پاکستان میں ممکن نہیں: خواجہ حارث ، یہاں دل کا علاج دستیاب ہے : جسٹس آصف کھوسہ، اب انکی صحت مزید خراب ہو چکی جیل نہیں جا سکتے :


report-about-nawaz-shareef

وکیل باہر کے ڈاکٹروں نے بھی علاج کا با سرنڈر نہ کیا توگرفتاری ہو گی ، ہر چیز کو سیاسی رنگ دیکر عدالت کو بدنام کیا جاتا ہے: عدالت ، بیرون ملک علاج کی درخواست خارج  سپر یم کورٹ نے نواز شریف کی ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی درخواست مسترد کر دی،

چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ نواز شریف کو ضمانت علاج کیلئے دی تھی لیکن نواز شریف صرف میرٹ، ٹمیٹ اور ٹیسٹ کرواتے رہے ، علاج تو کر وایا ہی نہیں ، جو خطوط پیش کئے گئے ہیں ان میں بھی کوئی رائے نہیں، صرف علاج کرنے کا کہا گیا ہے،

یہ خبر بھی پڑھے: کراچی ہائی کورٹ آف میں آسامیاں خالی .. کراچی سندھ 01 اپریل 2019

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں ضمانت میں توسیع کی نظر ثانی درخواست پر سماعت چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس مین آفریدی پوشتمل تین رکنی خصوصی بنچ نے کی، سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا گزشتہ سماعت پر اپنے دلائل میں کہا تھا کہ نواز شریف رہا ہو کر ڈاکٹر سے مشورہ کرینگے لیکن عدالت نے کیس ملتوی کرنے کی بجائے نمٹادیا،

نواز شریف کی حالت بھی بہتر نہیں ہوئی، چیف جسٹس نے خواجہ حارث کو ہدایت کی آپ نظر ثانی کی درخواست پر دلائل دیں، نواز شریف کے پاس بہت سے قانونی آپشن موجود ہیں ، جائزہ لیں گے نظر ثانی کی گنجائش ہے بھی یا نہیں تاہم آپ بطور لیگل ایڈوائزر نواز شریف کو جو بہتر سمجھیں مشورہ دیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ تو مل ہی تھا جو فیصلے میں دیا گیا،

خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ فیصلے میں کہا گیا کہ ہر صورت جیل جانا ہو گا جبکہ عدالت نے زبانی معلم میں توسیع کیلئے ہائیکورٹ جانے کا کیا تم میری معلم زبانی علم سے مختلف ہے، شدید علالت کے باوجود اب ہائیکورٹ میں سرنڈر کئے بغیر نشانت میں توسیع نہیں لے سکتے،

اگر عدالت نے زبانی حکم میں تبدیلی کرنی تھی تو نوٹس دینا چاہیے تھا، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا عدالت نے زبانی طور پر کوئی حکم پاس نہیں کیا تھا بلکہ آبزرویشن دی تھی، چیف جسٹس نے کہا عدالتی آرڈر میں مستقبل کے امکانات پر بات نہیں کر سکتے تھے ،

نواز شریف نے نظر ثانی میں ضمانت میں توسیع اور باہر جانے کی اجازت بھی مانگی ہے، آبزرویشن ناتے وقت آرڈر لکھا تک نہیں گیا تھا، آپ نے عدالت سے جو استدعا کی تھی وہ من و عن نہیں مانی گئی، جس دن فیصلہ سنایا گیا اسی دن جاری کر دیا گیا خواجہ حارث نے کہا عدالت نے نواز شریف کی صحت کو مد نظر نہیں رکھا،

اب ان کی صحت مزید خراب ہو چکی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا فیصلہ لکھتے وقت سوچ استقبل کے امکانات کو کیوں دیکھیں مستقبل میں کیا قانونی راستہ اپنانا ہے یہ آپ کی مرضی ہے، نواز شریف کی بیماری کا ڈاکٹر ز ہی بہتر بنا سکتے ہیں، اینجیو گرافی شاید ایک گھنٹہ میں ہو جاتی ہے ،

رپورٹس سے محسوس ہوا شاید نواز شریف کی زندگی کو خطرہ ہے اسلئے چھ ہفتہ کیلئے مضمانت دی تھی، یہ بتائیں کیا دوران ضمانت نواز شریف کا علاج ہوا جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہاد اور ان ضمانت ہائپر ٹینشن اور شوگر کا علاج ہوا تاہم نواز شریف کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے جو علاج درکار ہے وہ پاکستان میں ممکن نہیں،

نواز شریف کی بیماریوں میں مزید پیچیدگیاں آتی جارہی ہیں جبکہ مزید بیماریوں کی بھی تشخیص ہوئی ہے، چیف جسٹس نے کہا
ضمانت کے بعد ڈاکٹر ز کی رائے پر مبنی رپورٹ دیکھ کر تو لگتا ہے نواز شریف کو ضمانت کا نقصان ہو گیا، حالات مزید بگڑ گئی ، چیف جسٹس نے نواز شریف کے بیرون ملک علاج سے متعلق استفسار کیا کہ صرف بیرون ملک ہی علاج ممکن ہونے کے کیا شواہد ہیں ،

کیا ڈاکٹرز نے کہا کہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ شریف میڈیکل بورڈ کی رپورٹ اس ضمن میں لگائی گئی ہے چیف جسٹس نے کہا نواز شریف کو انجیو گرافی کیلئے ہی ضمانت دی تھی لیکن اب آپ کہتے ہیں پاکستان میں علاج ہی ممکن نہیں جبکہ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز نے رپورٹ میں یقین سے نہیں کہا کہ ملک میں علاج ممکن نہیں،

پاکستان میں دل کا بہترین علاج اور بہترین ٹیکنالو بھی دستیاب ہے، وکیل خواجہ حارث نے کہا غیر ملکی ڈاکٹرز نے بھی بیرون ملک علاج کی تجویز دی، دل کی ایم آر آئی پاکستان میں ممکن نہیں، چیف جسٹس نے کہا غیر ملکی ڈاکٹرز نے صرف علاج کی پیشکش کی ہے، بیرون ملک سے تین ڈاکٹرز نے خطوط کے جوابات لکھے ہیں کیا یہ بیرون ملک علاج کیلئے کافی ہیں ،

عدالت نے انت علاج کیلئے دی تھی ٹیسٹ کیلئے نہیں، 2005 میں عدالت نے آپریشن کیلئے ایک ملزم کو ضمانت دی تاہم آپریشن نا ہونے پر عدالت نے ضمانت خارج کر دی تھی اسلئے علاج نہ ہونے پر ضمانت خارج ہونے کا اصول موجود ہے،

چیف جسٹس نے میڈیا پر ہونے والی تنقید سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے کہ خواجہ صاحب کیا سزا کی معطلی یا ضمانت پر رہائی کو ئی انہونی چیز ہے، ہر چیز کو سیاسی رنگ میں دیکھ کر عدالت کو بدنام کیا جاتا ہے ،

سزائے موت کے مقدمہ میں ہی سزا معطل ہوتی ہے، عدالتی حکم واضح ہے چھ ہفتوں کے بعد نواز شریف نے سرنڈر کرنا ہے اگر وہ سرنڈر نہیں کرتے تو حراست میں لے لیا جائیگا نواز شریف سزایافتہ ہیں اور فیصلہ ختم ہونے تک ہیں گے ، کیا کسی سزایافتہ ملزم کو بیرون ملک علاج کیلئے بجھنے کی کوئی مثال ہے ،

جیل میں موجود ہر شخص کو ذہنی دباؤ ہوتا ہے، اگر اس نظر ثانی کو تسلیم کیا تو پھر نظر ثانیوں کا سلسلہ ختم نہیں ہو گا، اس عمر کا آدمی جوان نہیں بن سکتا، خواجہ حارث نے کہا بیرون ملک جانا علیحدہ ایشو ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کی صحت مزید خراب ہوئی ہے ، عدالت نے خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سناتے ہوئے درخواست خارج کر دی،

اے پی پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا پتہ نہیں ہر چیز کو سیاسی رنگ کیوں دیا جاتا ہے اور ہر بات پر عدالت کی تضحیک کی کوشش کی جاتی ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ نواز شریف کی کلوٹیٹ آپری 50 فیصد بڑھ چکی ہے یہ بہت ہی خطرناک ہے ، صباح نیوز کے مطابق خواجہ حارث نے کہا میرے موکل ضمانت میں توسیع چاہتے ہیں، ابھی ان کی صحت ایسی نہیں کہ جیل جا سکیں،

انہیں جو علاج درکار ہے وہ پاکستان میں ممکن نہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیسے معلوم ہوا کہ پاکستان میں علاج ممکن نہیں، آپ اپنی ہی پہلی درخواست سے باہر چلے گئے، پاکستان میں علاج کیلئے بہترین ڈاکٹرز موجود ہیں، آئی این پی کے مطابق جسٹس مین آفریدی نے کہا کہ قانون کے مطابق عدالتیں میڈیکل بورڈ کی رائے کو تسلیم کرتی ہیں،

ڈاکٹر ز کی انفرادی رائے کی بجائے میڈ یکل بورڈ کی رائے عدالت میں پیش کی جانی چاہئے تھی، چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹروں کا بیرون ملک علاج کے حوالے سے بھی موقف حتمی نہیں ، ڈاکٹر لارنس نے یہ نہیں کہا کہ نواز شریف کا علاج صرف ہم کر سکتے ہیں ، ڈا کٹر لارنس نے صرف یہ کہا کہ ہم بھی یہ علاج کر سکتے ہیں ،

آپ نے بیرون ملک ڈاکٹروں کے انفرادی خطوط عدالت میں پیش کیے ، کیا عدالت ان خطوط پر انحصار کر سکتی ہے؟ ہمیں کیسے معلوم ہو کہ یہاں ان کا علاج ممکن نہیں ، خواجہ حارث نے کہا کہ یہ تمام ڈاکٹر زاپنے شعبوں کے ماہر ہیں۔

اس پوسٹ پر کمینٹ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں