money laundering case 363

منی لانڈرنگ کیس: نواز شریف والی جے آئی ٹی بنانے کا جائزہ لیں گے چوری کا پیسہ ہضم نہیں ہونے دینگے: چیف جسٹس

.زرداری کے وکلا کہتے ہیں تحقیقات ہی نہ کریں۔ یہ رقم حرام اور ناپاک ہے اپنے موکل کو ہیں


money laundering case

انکوائری میں پیش ہوں بیگناہ ہوئے تو بشیر میمن ایف آئی اے اور نیب پر مقدمہ درج کرائینگے :عدالت باہر کہا جارہا ہے چیف کو معلوم نہیں کس پر ہاتھ ڈال رہا ہے مجھے زندگی اور موت کی پروا نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے

خزانے سے 35 ارب روپے لوٹے جائیں اور سپر یم کورٹ باتھ نہ ڈالے: جسٹس ثاقب گواہوں کو ہراساں کرنیکا سخت نوٹس رپورٹ طلب جس متوقع وزیر کے کہنے پر سب ہوا سے بھی جانتا ہوں:

چیف جسٹس انکوائری کیلئے ایک کروڑ روپے اور ماہرین دیئے جائیں: ایف آئی اے اسلام آباد (خصوصی خبر نگار) سپر یم کورٹ نے جعلی بنک کھاتوں کے ذریعے مبینہ منی لانڈرنگ کے بارے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ معاملے کی انکوائری کیلئے نواز شریف کیس کی طرز پر ہے آئی ٹی بنانے کا جائزہ لیا جائے گا تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے، جن کے خلاف الزامات درست ثابت نہ ہوئے وہ کلین چٹ لیکر نکلیں گے ، چوری کا پہیہ ہضم نہیں ہونے دینگے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی سنے اومنی گروپ کی طرف سے وکالت نامہ کے بغیر وکلا کے پیش ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور خبر دار کیا کہ ان کے خلاف جعلسازی کے الزام میں کارروائی کی جائے گی،

عدالت نے سندھ پولیس کیطرف سے تفتیش میں مطلوب افراد کو ہراساں کرنے اور حبس بے جا میں رکھنے کا سخت نوٹس لیا اور آئی جی کو انکوائری کر کے 2 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جبکہ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کی طرف سے ایف آئی اے پر جانبداری کے الزامات اور اعتزاز احسن کی طرف سے سپریم کورٹ کے معاملے میں مداخلت نہ کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ سپریم کورٹ کو کرپشن پکڑنے کا ہر اختیار حاصل ہے

، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ قوم کا پیسہ ہے، پہلے ان لوگوں کو بے نقاب کیا جائے گا جنہوں نے یہ پیسہ لوٹا، بعد میں دیکھا جائے گا ان پر کونسا قانون لاگو ہوتا ہے، یہ کر پشن اور رشوت کا معاملہ ہے جس میں بڑے بڑے لوگ ملوث ہیں ،

کر پشن کے پیسے ہضم نہیں ہونے دیئے جائیں گے ۔ باہر کہا جارہا ہے کہ چیف کو پیتے ہیں انھوں نے کس پر ہاتھ ڈالا، چیف کو زندگی اور موت کی پروا ہیں، بڑے لوگوں کو تحفظ دینے کیلئے ان لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے جن کے نام پر جعلی بنک اکاونٹ کھولے گئے ، پتہ ہے پولیس کو کون فون کرتا
ہے ،

یہ خبر بھی پڑھے: امریکی حکومت پاکستان کو چھوڑے اور اپنے چینی قرضوں کی فکر کرے:اسد عمر

کر پشن کے معاملات میں انکوائری کیلئے سپریم کورٹ کو وسیع اختیارات حاصل ہیں، چیف جسٹس نے ڈیبی ایف آئی اے کو متنبہ کیا کہ بد نیتی پر مبنی کارروائی کی اور کسی کو نشاط ملوث کیا تو پھر آپ یہاں نہیں ہوں گے ۔

ڈی جی ایف آئی نے بتایا کہ 29 جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی، جن افراد کے نام جعلی کھاتے کھول کر ان میں اربوں روپے منتقل کئے گئے ان میں سے کچھ کے پاس کرایہ بھرنے کے بھی پیسے نہیں، یہ افراد استغاثہ کے گواہ ہیں لیکن انھیں ہراساں کیا جارہا ہے ، کچھ افراد ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں ،

انکوائری کے لئے ایک کروڑ روپے اور ماہر ین فراہم کئے جائیں، بدلے میں کم از کم 35 ارب روپے قومی خزانے میں واپس لائے جائیں گے ۔ سماعت شروع ہوئی توڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے بتایا کہ مجموعی طور پر 29 مشکوک اکاؤنٹس ہیں جو سمٹ بنک ، سند ھ بنک اور یونائیٹڈ بنک میں کھولے گئے اور مشکوک تر از یکشنزر مشکوک اکاؤنٹس کے ذریعے ہو میں ، طارق سلطان کے نام سے 5 اکاؤنٹ تھے، ابراہم لنکرز کی انٹر نیشنل کے 3 مشکوک اکاؤنٹس ہیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ مشکوک اکاؤنٹس سے رقم کن اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی ۔ ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ اومنی گروپ سے رقم زر داری گروپ کو بھی منتقل ہوئی ، اومنی گروپ نے 2082 ملین جبعلی اکاؤنٹس میں جمع کرائے لیکن جعلی اکاؤنٹس کا پہلے ریکارڈ نہیں مل رہا تھا، ان جعلی اکاؤنٹس میں 35 بلین کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ 35 ارب کی رقم کس کو منتقل ہوئی ،

اومنی گروپ کے مالک انور مجید کدھر ہیں ، انور مجید کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل پیار اور ہسپتال داخل ہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ جب بھی کوئی مقدمہ آتا ہے لوگ ہسپتال چلے جاتے ہیں، انور مجید آئندہ سے پیش ہوں، اومنی گروپ کی کتنی کمپنیاں ہیں اور بورڈ آف ڈائر یکٹر ز کون ہیں ، اومنی گروپ کے اکاؤنٹس کو جعلی کیسے کہہ سکتے ہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ رقم جمع کرانے والے اصل لوگ ہیں لیکن اکاؤنٹس جعلی ہیں۔ چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ جعلی اکاؤنٹس سے رقم کہاں گئی ہولسٹ دیں کہ 29 اکاؤنٹس کس کس کے نام پر ہیں ، کچھ لوگ کہتے ہیں یہ اکاؤنٹس انہوں نے کھولے ہی نہیں ، لگتا ہے کالاوهان جمع کرایا گیا، دیکھنا ہے بیف بیشری کون ہے۔

انور مجید کے وکیل خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ انور مجید علاج معالجے کیلئے دبئی میں ہیں جبکہ پر بھی بیرون ملک ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب باہر ہیں تو وکالت نامے پر دستخط کس نے کیسے ، بڑے آدمیوں کیلئے قانون مختلف نہیں ہو سکتا، کس اتھارٹی کے تحت وکلا کی خدمات حاصل کر لی گئیں ۔

وکیل حجمشید ملک کا کہنا تھا کہ انور مجید اور انور غنی مجید نے ان کے سامنے دستخط کیے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ لوگ تو ملک سے باہر تھے وکیل نے جواب دیا کہ وہ (وکیل)بھی بیرون ملک تھا۔ اس پر عدالت نے وکیل جمشید ملک کا پاسپورٹ منگوالیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رضا کاظم اور خالد رانجھا کے سامنے وکالت نامہ پر دستخط نہیں ہوئے تو دونوں وکلا کیسے پیش ہو سکتے ہیں ؟ اس انداز سے پیش ہونے پر سخت ایکشن لینگے ، عدالت نے رجسٹرار کو بلاکر ہدایت کی کہ معاملے کو دیکھیں، انکوائری کی جائے ، اگر جرم بنتا ہے تو پر چہ درج کروائیں۔ وکیل حجمشید ملک کا کہنا تھا کہ وکالت نامه ای میل پر موصول ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے کہا وکالت نامہ پر میرے سامنے دستخط ہوئے ، اب کہہ رہے ہیں وکالت نامه ای میل پر موصول ہوا۔ ایڈو کیٹ آن ریکارڈ کی خدمات بھی حاصل نہیں کی گئیں۔ کیوں نہ آپ کا لائسنس معطل کر دیں۔

منی لانڈرنگ کا اتنا بڑا الزام ہے، انور مجید اور دیگر لوگوں کے بیان ریکارڈ کر نا چاہتے ہیں ، اگر کوئی پیار ہے تو سٹریچر پر آجائے۔ فاروق ایچ نائیک نے پیش ہو کر کہا کہ اس مقدمہ میں بہت سے لوگوں کو بدنام کیا جارہا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ بشیر میمن اور انکی ٹیم نے بلاوجہ کسی پر الزام لگایا تو پاکستان میں نہیں رہے گا۔

ایف آئی اے کے غلط کام کو سپورٹ نہیں کرینگے لیکن جن پر الزام ہے وہ شامل تفتیش ہو کر خود کو کلیئر کریں۔ چیف جسٹس کے استفسار پر فاروق نائیک نے بتایا کہ وہ آصف زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں،

عدالت مقد مہ کی پلٹی روکے ، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اتنی پلیٹی تو ملے گی جتنی ہم دینگے ، کیا ایف آئی اے کو انکوائری کا اختیار نہیں؟ فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ پہلے یہ دیکھا جائے کہ کیا جرم سرزد ہوا ہے ، ایف آئی اے نے منی لانڈرنگ کا شور ڈالا ہوا ہے ،

ہم چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہوں، عبوری چالان میں انکے موکل پر 30 ملین ٹرانزیکشن کا الزام ہے، مودبانہ عرض ہے کہ انکی بات سن لیں، منی لانڈرنگ کا مقدمہ حسین لوائی اور سمٹ بنک کیخلاف ہے، آصف زرداری نامزد نہیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اربوں روپے کے سکینڈل کی تحقیقات ہونی چاہئیں ، اس ملک میں ٹیکس کا بوجھ غریب پر پڑتا ہے،

ان اکاؤنٹس سے کالا دھن سفید ہو ، اربوں روپے ایسے اکاؤنٹس میں ڈالے گئے جنہیں اکاؤنٹ ہولڈر تسلیم نہیں کرتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ پاکستان ہے یہاں پر ہر معاملہ پاک ہونا چاہئے ، یہ حرام کے پیسے تھے ، یہ تم جن کی بھی ہے ناپاک اور حرام ہے۔ سندھ حکومت نے کچھ کیا تو چھوڑیں گے نہیں ، کسی کو چوری کا پیسہ ہضم نہیں کرنے دیں گے۔

فاروق نائیک نے کہا کہ چوری کامال نہ ہو تو کیا ہوگا، چیف جسٹس نے کہا کہ چوری کا مال نہ ہو تو کلین چٹ لیکر جائیں گے۔ فاروق نائیک نے کہا کہ ان کے موکل کا کیا قصور ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ 35 ارب کے فراڈ کی تحقیقات تو ہونے دیں ۔

اے پی پی کے مطابق فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ عدالت کے منع کرنے کے باوجود ایف آئی اے نے آصف زرداری اور فریال تالپور کو مفرور قرار دیا جو پری پول دھاندلی کے مترادف ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپکے موکل ایف آئی اے کی انکوائری میں پیش ہو کر اپنے آپ کو بیگناہ ثابت کریں اور اگر وہ بیگناہ ثابت ہوئے تو میں بشیر میمن ایف آئی اے اور نیب کیخلاف مقدمہ درج کراؤں گا۔

سندھ کو پولیس اسٹیٹ بنادیا گیا، جب بھی بڑے آدمی کیخلاف تحقیقات شروع ہوتی ہیں تو پولیس گردی شروع کر دی جاتی ہے ، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ قومی خزانہ سے 35 ارب روپے لوٹے جائیں اور سپر یم کورٹ باتھ نہ ڈالے آئندہ سماعت پر جے آئی ٹی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ اس معاملے میں اسی طرح کی جے آئی ٹی بنائیں گے جیسے نواز شریف کیخلاف بنائی تھی ۔

اس دوران نجی بنک کی وہ خاتون ملازمہ پیش ہو گئی جس کے نام پر جعلی اکاؤنٹ کھولا گیا تھا، اس نے موقف اپنایا کہ پولیس ہمیں ہراساں کرنے کے لیے آئی اور رات 12 بجے تک بھی رہی ، چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے معلوم ہے پولیس کس نے بجھوائی ، سندھ حکو مت نے کچھ ایا ایسا کیا تو چھوڑیں گے نہیں، نجی کمپنی اے ون کے مالک طارق سلطان پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ ان کے نام سے اکاؤنٹ کھولا گیا لیکن نہیں معلوم یہ اکاؤنٹ کس نے کھولا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اتنابڑا فراڈ ہوا ہے تو ایف آئی اے کی تحقیقات اتنی ست کیوں ہیں؟ ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ میں کارپوریٹ وکیل اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی ضرورت پڑے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدیں ۔ فریال تالپور کے وکیل فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ ڈی جی بشیر میمن اپنے اندازے سے حقائق پیش کر رہے ہیں،

عدالت نے معاملہ کا نوٹس لیا جس پر ایف آئی اے نے بند انکوائری دوبارہ کھول دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کرپشن کے معاملات پر عدالت عظمی کے اختیار پر کوئی قد غن نہیں ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دیتے ہیں ، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ وقفہ کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو وکیل خالد رانجھا نے کہا کہ عدالت ٹائم دے دے اومنی گروپ کے ذمہ دار پیش ہو جائیں گے جس پر عدالت نے کہا کہ انور مجید ، عبدالغنی، علی مجید ، شمر مجید آئندہ سماعت پر پیش ہوں ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس قسم کے کنڈکٹ پر سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا لائسنس معطل ہوا۔ خالد رانجھا کا کہنا تھا کہ ہمیں ان لوگوں کی ضمانت کرانے دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھ لیں جو کرنا ہے کر لیں، ہمیں تو ان لوگوں کی حاضری چاہیے۔

چیف جسٹس نے خاتون سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ آپ کو کس نے ہراساں کیا؟ خاتون نورین کا کہنا تھا کہ انہیں گلستان تھانہ سے کال آئی تھی جس پر میں نے جواب دیا کہ مقدمہ ایف آئی اے میں ہے، پولیس کیوں کال کر رہی ہے، تھانہ گلستان کے اہلکاروں  نے ہراساں کیا، واقعہ کے بعد نجی بنک نے مجھ سے استعفی لیا۔ چیف جٹس نے کہا کہ مجھے اس واقعہ کادو دن پہلے علم تھا،

پولیس کا ایف آئی اے کی تحقیقات کے ساتھ کیا تعلق؟ آئی جی سندھ اور تھانے کا عملہ عدالت میں پیش ہو ، کیا پولیس ریاست کی ملازم ہے یا کسی دوسرے کی، کیا سندھ پولیس کا شہریوں کے ساتھ یہ رویہ ہے، عدالت نے آئی جی سندھ اور گلستان تھانے کے تمام عملے اور وفاقی سیکر ٹری اسٹیبلشمنٹ کو طلب کیا تو اے آئی جی سندھ مشتاق نے بتایا کہ انہیں کل شام واقعہ کا علم ہوا،

اس دوران ایک اور خاتون پیش ہوئی ، اس کا کہنا تھا کہ وہ غریب عورت ہے ، عدالت نہیں آسکتی، ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ خاتون کے اکاؤنٹ میں سوار ب روپے ہیں، خاتون نے کہا کہ مجھے کسی اکاؤنٹ اور رقم کا علم نہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ آصف علی زرداری کے وکیل کہتے ہیں تحقیقات ہی نہ کریں، لوگ کہتے ہیں چیف جسٹس کو معلوم نہیں کس پر ہاتھ ڈال دیا ہے، چیف کو لگ پتا جائے گا، چیف ہاتھ ڈال رہا ہے تو کسی سے ڈرتا نہیں، ڈی جی ایف آئی اے صاحب اب یہ باتیں ہورہی ہیں۔

اس دوران شہری عدنان کا کہنا تھا کہ اس کے نام پر بھی جعلی اکاؤنٹ کھولے گئے جبکہ اس کا کوئی تعلق نہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدنان کے اکاؤنٹ میں آٹھ ارب روپے ہیں ، اس دوران ڈی جی ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے ہے آئی ٹی بنانے کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملہ میں نواز شریف والی جے آئی ٹی بنادیتے ہیں ، وہی آئی ٹی بنے گی تو بھینس ہو جائے گا، ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ گواہوں کو ہراساں کیا جارہا ہے تمام اکاؤنٹ ہولڈر غریب لوگ ہیں ،

ہمیں اچھے کارپوریٹ وکیل بھی ضرورت ہے، کھلی عدالت میں کہتا ہوں رقم 35 ارب سے کہیں زیادہ ہے، ہمیں ٹرانزیکشن کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین اور تحقیقات کے لیے ایک کروڑ روپے چاہئیں، میں مزید جعلی اکاؤنٹس اور ٹرانزیکشنز مل سکتی ہیں لیکن لوگ چاہتے ہیں سو موٹو گیس ختم ہو جائے اور مقد مہ 15 | سال نے عدالت میں چلتارہے، چیف جسٹس نے کہا کہ تمام متعلقہ افراد کو بلا لیا ہے،

آئندہ سماعت پر تمام متعلقہ لوگوں کو سن کر ہے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ کریں گے۔ ہم تو چاہتے ہیں انصاف کے مطابق تحقیقات ہوں لیکن اس بار اگر لوگوں کی عزت پر بات آئی تو ایف آئی اے کو پٹڑیں گے ،ایسی نہیں چلے گا کہ بعد میں معافی مانگتے ہیں ، کیس سپریم کورٹ کا خصوصی نے سنے گا ماتحت عدلیہ کو دے کر چھ ماہ کیس نہیں اٹھا سکتے، عدالت نے بینکنگ کورٹ میں جاری کیس کی فائل پیش کرنے کا بھی حکم دیا ،

سمٹ بنک منیجر کے بھائی حسین شاہ نے بتایا کہ مجھے گزری تھانے میں بلوا کر ہراساں کیا گیا ، لاڑکانہ میں ہماری زمینوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا ، چیف جسٹس نے کہا کہ کیوں نہ پولیس کیخلاف حبس بے جا کا مقدمہ درج کریں ، ڈی آئی جی کی سخت سرزنش کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے تم کس قسم کی نوکری کر تے ہو ،

معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لاؤں گا، آئی جی سندہ جاوید سلیمی نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ عدالت نے تمام ملزموں کی حاضری یقینی بنانے کا حکم دیا تھا، | چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لوگ چاہتے ہیں ہم دھمکیاں دینے والوں سے نہ لڑیں، مجھے زندگی موت کی کوئی پروا ہیں ، آئی جی سندھ نے کہا کہ کوئی غلط کام ہوا ہے تو ایکشن لیں گے ،

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کس کے کہنے پر لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے؟ آئی جی نے کہا کہ عدالت انکوائری کرنے کا وقت دے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ کل بدھ کو رپورٹ پیش کریں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جس آنے والے وزیر کے کہنے پر سب ہو اسے بھی جانتا ہوں ۔ عدالت نے اپنے علم میں قرار دیا کہ معاملہ میں آئی جی سندھ واضح موقف دینے میں ناکام رہے۔ عدالت نے اے آئی جی مشتاق مہر کو کیس سے فوری الگ ہونے کا حکم دیتے ہوئے مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

یہ خبر بھی پڑھے: منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کی گئی دولت کی وطن واپس

اس پوسٹ پر کمینٹ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں