imran-khan-remarks 117

بلدیاتی نظام کے بعد سندھ میں کسی تقسیم کی ضرورت نہیں:وزیراعظم

 بلدیاتی نظام کے بعد سندھ میں کسی تقسیم کی ضرورت نہیں، غربت کا خاتمہ مشن، حکومت سرمایہ کاری کیلئے سہولیات مہیا کریگی ،


imran-khan-remarks

تاجر ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھائیں سابق حکمرانوں کی کر پشن نے معیشت تباہ کی، چوروں کو نہیں چھوڑ سکتا، از سنگ پروگرام سے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے :

یہ خبر بھی پڑھے: بھارتی صحافی کی غلطی کا شل میڈیا پر مذاق بن کر رہ گیا

وفود سے گفتگو، خطاب وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سندھ میں نے صوبے کی ضرورت نہیں، پی ٹی آئی سندھ میں ایک اور صوبہ بنانے کیخلاف ہے۔ نئے بلدیاتی نظام کے بعد سندھ میں کسی تقسیم کی ضرورت نہیں رہے گی ۔

انہوں نے یہ بات کراچی میں اتحادی جماعتوں کے وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہی۔ وفد میں فردوس شمیم نقوی، خرم شیر زمان ، حلیم عادل شیخ فیصل واوڈا، اشرف قریشی، ارباب غلام رحیم، نند کمار ، نصرت سحر عباسی ، صدر الدین شاہ راشدی و دیگر شامل تھے۔

ملاقات میں سندھ کی مجموعی و سیاسی صورتحال، سندھ میں وفاقی حکومت کی جانب سے جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں اور اتحادی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کراچی میں وزیراعظم سے FPCCI اور تاجر برادری کے وفد نے بھی کراچی میں ملاقات کی ۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا میرا مشن پاکستان سے غربت مٹانا ہے جس میں تاجر برادری میرا ساتھ دے ، سابق حکمرانوں نے کرپشن سے معیشت کو تباہ کیا ، میں خستہ حال معیشت ملی ، میں چوروں کو نہیں چھوڑ سکتا، اس وقت حکومت کی توجہ معاشی استحکام پر مرکوز ہے۔

ایف بی آر اور سٹیٹ بینک میں ماہر میں تعینات کیے ہیں ۔ میری تاجر برادری سے التماس ہے کہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھائیں ۔ ملاقات میں گورنر سندھ عمران اسماعیل ، وفاقی وزیر برائے دفتری امور علی زیدی، مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داود بھی موجود تھے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت سب سے زیادہ تاجر اور سرمایہ کار دوست حکومت کے طور پر جانی جائے۔

حکومت سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ میں ہر ممکن تعاون کرے گی اور تمام تر سہولیات فراہم کرے گی ، کاروبار میں سہولت (ایز آف ڈوئنگ بزنس)، ایف بی آر کی اصلاحات اور تجارت کے لئے ساز گار اور کاروبار دوست ماحول کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہیں۔

کاروباری برادری کی جانب سے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار اور وفد کی جانب سے معاشی استحکام اور اقتصادی اہداف کے حصول کے لئے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ وزیراعظم عمران خان سے ایکسپو 2020ء تقسیم میٹی کے اراکین نے بھی گورنر ہاؤس کراچی میں ملاقات کی ۔

ایکسپو 2020 دبئی میں منعقد کی جارہی ہے جس میں 190 کے قریب ممالک شرکت کر رہے ہیں ۔ اجلاس میں وزیر اعظم کو ایکسپو 2020ء کے سلسلہ میں کیا جانے والی تیاریوں اور اس ضمن میں مختلف شعبوں کے درمیان روابط کو آرڈینیشن کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو بے شمار نعمتوں اور صلاحیتوں سے نوازا ہے،

معیشت کے روایتی و غیر روایتی شعبوں میں پاکستانی مصنوعات کے علاوہ ملک میں سیاحت کی بھر پور صلاحیت موجود ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر آگاہی کا فقدان ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایکسپو 2020، پاکستانی مصنوعات اور سیاحت جیسے شعبوں کو علاقائی اور عامی پر روشناس کرانے کے سلسلہ میں آئیڈ میں پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔

اس پلیٹ فارم سے بھر پور استفادہ کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سندھ میں نیا پاکستان ہاؤ سنگ منصوبے کے اجراستے متعلق بھی اجلاس ہوا جس میں سندھ کے بڑے شہروں میں کم آمدنی والے افراد کے لئے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت مختلف منصوبے شروع کر نے پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہاؤسنگ کے شعبے میں مختلف منصوبوں کے آغاز سے سندھ کے لوگوں خصوصا نوجوانوں کو کاروبار اور روزگار کے مواقع میسر آئیں گے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام میں نجی شعبے کی دپیں نہایت حوصلہ افزا ہے۔ اس موقع پر پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کو مزید موثر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیا گئیں۔

دریں اثناء کراچی میں شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے لئے دو مہینے اور مشکل ہیں، جب برا وقت آتا ہے تو قوم برے وقت سے نکلتی ہے، جب قوم اکٹھی ہو جاتی ہے تو کسی بھی چیز کا مقابلہ کر سکتی ہے،

ہمارے دو مہینے مشکل اس لیے ہیں کہ جو دس سال اس ملک سے ہوا اور جس طرح کی لوٹ مار ہوتی ہے اور اس ملک کو مقروض کیا گیا ہے، تو بر اوقت آنا ہی تھا۔ یہ ملک انشا اللہ آپ کے سامنے کھڑا ہو گا ۔

ان کا یہ ایمان ہے کہ یہ وہ ملک بنے گا، جو وہ بہت دیر سے کہتے آئے ہیں کہ باہر سے لوگ نوکریاں ڈھو نڈ نے پاکستان آیا کریں گے ۔ انشا اللہ ۔ وزیر اعظم نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے فنڈ ریزنگ افطار ڈنر میں اپنی زندگی کے اہم واقعات بھی بتائے اور عمائدین شہر کو مشورے بھی دیئے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب مشکل وقت ہو تو رشتے داروں کی شادی میں نہیں جانا چاہیے اور اگلے دن کا اخبار نہیں پڑھنا چاہیے۔ عمران خان نے پاکستان کی موجود مشکل صورتحال اور معاشی حالات کے تناظر میں کہا کہ آسان وقت میں تو سارے دوست ہوتے ہیں۔

ایک دفعہ پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت میں کرکٹ سیریز ہارگئی تو وہاں فیصلہ ہوا کہ رات کی تاریکی میں پاکستان پہنچیں گے تاکہ لوگوں کی تنقید سے پے سکیں مگر جب پاکستان واپسی کے لیے کر کٹ ٹیم رات گئے پڑی تو کسٹم حکام نے ہی متاخیر کر دی اور جب قومی کر کٹ ٹیم باہر آئی تو صبح کے ان چکے تھے اور پھر ر کھنے والے سے لیکر ہر راہ چلتے نے ہم پر خوب جملے کسے۔

اس پوسٹ پر کمینٹ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں