imran-khan-leader 316

لیڈر کا گروپ نہیں نظریہ ہوتا ہے حکومت نہیں جہاد کرنے آئے ہیں: عمران خان

 تمام صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ، وزیراعظم، صدر اور وزراء کے اخراجات کم کرنا ہونگے


imran-khan-leader

ملک کو فلاحی ریاست بنائیں گے، جو ز یہ کام نہیں کر یا اس سے جانا ہوگا: خطاب، صدر یو این ڈی پی کے نمائندہ نیل  بوہنے کی ملاقات پشاور ، اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک، ایجنسیاں) چیئرمین تحریک انصاف اور نامزد وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم حکومت نہیں جہاد کرنے آئے ہیں،

مجھ سمیت کسی کے بھی پاس کوئی صوابدیدی فنڈ نہیں ہو گا، پاکستان اسوقت معاشی مسائل میں گھرا ہوا ہے اور ہمیں مشکل وقت کا سامنا کر نا پڑ گیا تاہم آئی ایم ایف کیساتھ کیا کرنا ہو گا .اس کیلئے بہت سوچ بچار کرنا ہوگی ،ماضی کے حکمرانوں نے اپنی ذات کے بارے میں سوچا لیکن ہم نے ملک اور عوام کے بارے میں سوچنا ہے .

کیونکہ عوام نے ہم پر بہت بڑے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے پشاور میں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا مخصوص نشستوں پر آنیوالے لوگوں کو تیاری کیسا تھ اسمبلی آنا چاہئے اور کورم کا مسئلہ ہر گز نہیں ہونا چاہئے ، جو حالات اب ہیں وہ پہلے بھی نہ تھے

لیکن انسان کوشش کرے تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے، میں اس کی بڑی مثال ہوں، میں اپنے اخراجات کم کر نا ہو گئے جس کیلئے ہم میٹی بنائیں گے تاکہ وزیر اعظم، صدر اور وزراء کے خرچے کم کئے جا سکیں، ملک میں بہت غربت ہے ،50 فیصد پاکستانیوں کو دو وقت کی روٹی تک میسر نہیں ، مد ینہ کی ریاست کیسے بنی؟، صرف گیارہ سال میں روم کی سلطنت کو شکست ہوئی،

یہ خبر بھی پڑھے: وفاق میں حکومت سازی پی ٹی آئی کے نمبر پورے

تیرہ سال کے دوران فارس کو شکست دی گئی اور سات سو سال تک مسلمان دنیا کی عظیم قوم رہے ، مدینہ کی ریاست نے قانون کی بالادستی قائم کی اور فلاحی ریاست قائم کر کے مسلمانوں نے ترقی کی ، ہم نے بھی پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے، ہم نے اقتدار اپنی ذات کیلئے نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کیلئے لینا ہے،

خیبر پختونخوا میں مزید کام کرنے ہونگے ، بلدیات میں مزید اصلاحات لانی ہیں جبکہ پولیس اور تعلیم کے نظام کو مزید بہتر کرنا ہے ، پارٹی میں کو ئی گر و پاک نہیں کرنی ہے ، جو بھی وز سے کام نہیں کر یگا ہم اسے تبدیل کر دینگے ، لیڈر کا کو ئی گروپ نہیں ہوتا لیڈر کا صرف اور صرف نظر یہ ہوتا ہے ،

ہم نے پانچ سال میں اس ملک کو تبدیل کرنا ہے اور تبدیلی قربانیوں کے بغیر نہیں آ سکتی، خیبر پختونخوا کے پار لیمنی میز کو پورے ملک کیلئے مثال بنا ہے، آپ لوگوں نے مجھے مایوس نہیں کر نا، وزیر اعلی اور وزراء کا انتخاب میری ذمہ داری ہے،

سب کچھ میرٹ پر ہو گا، سب لوگوں کا احتساب بھی ہو گا ، تمام وزراء کو اہداف دیئے جائیں گے اور وزراء کو صبح نو بجے دفاتر بنانا ہوگا، ہم قانون کے ذریعے صوابدیدی فنڈز ختم کرینگے، پرویز خٹک نے بڑی مشکل سے حکومت چلائی جس پر ہم انہیں داد دیتے ہیں ، بھی کوئی چیز خفیہ نہیں رہ سکتی اس لئے احتیاط کیساتھ کام کریں ،

جہاد کریں اور اللہ کا خوف کریں۔ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی ، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے ناموں کا اعلان نہ ہو سکا اجلاس صرف تعارفی نشست تک ہی محدود رہا۔ صباح نیوز کے مطابق انکا کہنا تھا ہم حکومت کرنے نہیں کر پشن کیخلاف جہاد کرنے آئے ہیں، قانون میں تبدیلی کر کے صوابدیدی فنڈ کو مکمل ختم کریں گے ۔

مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق عمران خان نے کہا ماضی میں جو لوگ اقتدار میں آئے انہوں نے اپنی ذات کیلئے بہت کچھ کیا تاہم ہم حکومت نہیں جہاد کرنے آئے ہیں ، نیا پاکستان بنانا ہے اور آپ لوگوں نے مجھے مایوس نہیں کرنا۔

دریں اثناء یو این ڈی پی پریزیڈنٹ کے نمانده خصوصی برائے پاکستان نیل بوہے نے بنی گالہ میں چیئرمین تحریک انصاف سے ملاقات کی اور انہیں انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی۔ نیل بوہے نے کہا یو این ڈی پی نے پختونخوامیں صوبائی حکومت کیساتھ ملکر کام کیا،

وفاق میں بھی تحریک انصاف کی حکومت کیساتھ ہیں۔ کرپشن کے انسداد ، قانون کی بالادستی، تعلیمی اصلاحات اور نوجوان کو با اختیار بنانے میں نئی حکومت کی معاونت کو تیار ہیں ، بے گھر آبادی کی فاٹا میں آباد کاری اور مشکلات کے حل میں حکومت کی مدد کر ینگے ، نو مولود بچوں کی اموات میں 60 فیصد کیو جہ ڈائر یا بنتا ہے ،

اور این ڈی پی حکومت پاکستان کیساتھ ملکر اس کا حل نکالنا چاہتی ہے جبکہ زراعت، توانائی، نیس کو میشن اور گڈ گورننس میں اشتراک کیلئے بھی تیار ہیں۔ عمران خان نے کیا انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوتے ہیں یو این ڈی پی کی معاونت چاہیں گے۔

آئی این پی کے مطابق عمران خان نے خیبر پختونخوا میں وزیر اعلی اور وزراء کی کار کردگی کو خودمانیٹر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا وہ ایک مانیٹر نگ کمیٹی بنائیں گے جو انہیں 3 ماہ بعد وزرا کی کارکردگی سے آگاہ کریگی۔

یہ خبر بھی پڑھے: امریکی حکومت پاکستان کو چھوڑے اور اپنے چینی قرضوں کی فکر کرے:اسد عمر

اس پوسٹ پر کمینٹ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں